جشن آزادی کی تیاریا ں عروج پر ہیں۔چھوٹا ہو یا بڑا  ۔۔۔۔۔۔۔مرد ہو یا عورت۔۔۔۔۔ امیر ہو یا غریب۔۔۔۔
ہر ایک وطن سے محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ہر طرف سبز ہلالی پرچم سے ماحول سبزہ زار بنا ہوا ہے۔کہیں دکاندار جھنڈیوں اور بیچز اور طرح طرح کی 14 اگست کی اشیاء  لیے بیٹھا ہے تو دوسری طرف خریدار کی بھرمار ہے۔۔۔۔کہیں گھروں کو سجایا جا رہا ہے تو کہیں اسکولوں میں تقریبات کی تیاریاں جاری ہیں۔
ہر کوئی کسی نہ کسی طریقے سے وطن سے محبت کا حصہ دار بنا ہوا ہے۔۔۔
مگر۔۔۔۔۔
وطن کی محبت کیا 14 اگست سے وابستہ ہے؟؟؟؟کیا وطن سے محبت ایک دن کا حق ہے۔۔۔کیا 15 اگست سے 13اگست تک  وطن کو ہماری ضرورت نہیں ہے؟؟؟
کیا جھنڈیاں لگا لینے سے وطن سے محبت کا حق ادا ہو جائے گا؟؟؟؟ کیا مزید قربانیوں کی ضرورت نہیں۔۔۔؟؟؟؟
 ابھی میرا بھانجا پوچھ رہا تھا ۔۔۔14 اگست آنے میں دو دن رہ گئے ہیں میں نے کہا جی۔۔ساتھ ہی سوچ میں پڑ گئی کہ یہ ننھا ذہن کتنا معصوم ہے کہ پاکستان سے محبت کو جھنڈیوں سے منسوب کر رہا ہے۔۔اسے کیا سمجھ کہ جھنڈیاں لگا لینا ہی محب وطن نہیں کہلایا جائے گا اس کے لیے تو وہ کرنا پڑے گا جو ہمارے قائد محترم اور ان کے جانثار ساتھیوں اور ان لاکھوں مسلمانوں نے علیحدہ وطن حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔۔
مگر افسوس۔۔۔اسی ننھے بچے کی سوچ  ہماری سوچ بن گئی ہے۔۔۔۔اور ہم بھی جھنڈیاں لگا کر یہ اعلان کر رہے ہیں
مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔۔۔
Share To:
Next
جدید تر اشاعت
Previous
This is the last post.

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment: