سنبل جلدی صفائیاں کرو بیٹا۔۔تم نے پھر تیار بھی ہونا ہے۔امی نے سرعت کے عالم میں بیٹی کو پکارا
اور پھر سے کام میں لگ گیئں۔۔
ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا صبح سے گھر میں شور مچا تھا۔ممانی جان جو کل ہی سنبل کے گھر تشریف لائیں تھیں
جنہیں اس اصرار پر بلایا گیا کہ سنبل کو کچھ لوگ آج دیکھنے آرہے ہیں تو لہذاخلاف توقع کچن  کی ذمہ داری انہوں
نے ہی سر انجام دی۔۔
سنبل فیشل کر لو اور ذرا بلیچ بھی لگا لو تھوڑا رنگ گورا ہو جائے دیکھو زرا تیار ہوکر آنا لپ اسٹک ڈارک لگانا
وہ لوگ زرا ماڈرن سے ہیں ۔۔خالہ جان میں جیسی ہوں میں ایسی ہی رہوں گی جس نے مجھے پسند کرنا اسی روپ میں کرے
اور میں ان لوگوں کے مردوں کے سامنے نہیں جاؤں گی  ان کی عورتیں دیکھ لیں بس ۔۔نہ ہی مجھے کوئی اصرار کرے پلیز۔۔
سنبل نے ٹوٹے لہجے اور بھرے دل سے جواب دیا ۔۔۔رات سے ایک ہی بات سن سن کر اس کا ضبط جواب دے گیا اور گہری سوچ میں
پڑ گئی کہ کیا میں اتنی ہی سانولی ہوں۔۔۔
خیر وہ وقت آن ہی پہنچا جب مہمانان گرامی تشریف لائے اور سنبل اپنے کمرے تک محیط رہ گئی
تیار ہوکر خود کو آئینے میں اپنا بغور جائزہ لینے لگی  لائٹ مہرون پرنٹڈ سوٹ میں بڑا سا دوپٹہ شانوں پر پھیلائے۔۔۔
میچنگ حجاب لیے۔۔۔اور چہرے پر معمولی سنگھار کیے وہ اپنی ذات میں الگ کشش لیے کھڑی تھی۔۔
ایسے میں دروازے سے ایک ایک کرتی گھر کی خواتین داخل ہونا شروع ہوئی۔۔۔یہ لپ اسٹک ڈارک کرو۔۔یہ حجاب کیوں لیا۔۔یہ دوپٹہ ایک ہی
شانے پر رکھو۔۔۔بال کھولو۔۔۔اف۔۔۔۔میں کچھ نہیں کروں گی وہ مجھے اصلی روپ میں ہی پسند کریں۔۔۔
اچھا  مرد اندر آنے لگے ہیں تم بس سلام کرنا  ممانی کا حکم صادر ہوا۔۔
ممامی جان میں مردوں کے سامنے نہیں آؤں گی پلیز عورتوں نے دیکھ تو لیا مجھے۔۔کچھ نہیں ہوتا وہ سب تمہارے باپ کی طرح ہیں۔۔۔
مامی پلیز۔۔۔سنبل نے لڑکھڑاتے لہجے میں کہا۔۔
اور پھر وہی ہوا جس کا سنبل کو خدشہ تھا۔۔مرد حضرات اندر تشریف لائے  سلام کیا حال پوچھااور دیکھا اور چلے گئے۔۔

کچھ دن  گزرے تو سنبل کو وہ اطلاع ملی جو اس کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی کہ وہ حجاب کی وجہ سے مسترد ہوگئی ۔۔۔۔ 
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment: