نہ جانے کیوں
یہ ریت ہے
زمانے کا دستور ہے
یا تقدیر کا اصول ہے
جو اپنانہیں
وہ اپنا لگتا ہے
جو اپنا ہے
وہ اپنا نہیں لگتا
جو چاہ ہوتی ہے
وہ ساتھ نہیں ہوتی
جو ساتھ ہے
وہ چاہ نہیں
جو نظروں میں ہوتے ہیں
وہ دور ہوتے ہیں
جو پاس ہوتے ہیں
وہ نظر نہیں آتے
جن سے محبت ہو
وہ دل میں بھی ہوتے ہیں
نظر میں بھی ہوتے ہیں
پاس بھی ہوتے ہیں
مگر نا جانے کیوں
قسمت میں نہیں ہوتے
جن سے بات ہو
وہ قریب ہوتے ہیں
جو قریب ہیں
ان سے بات نہیں ہوتی
جو خاص ہیں
وہ عام رہتے ہیں
جو عام ہیں
وہ خاص نہیں ہوتے
جو محرم ہیں
وہ نا محرم نہیں ہو سکتے
جو نا محرم ہیں
وہ محرم نہیں بن سکتے
یہ قسمت یے؟؟؟
یا سوچ میری؟؟؟


Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں