آج کی صبح نے مجھے بہت خاص پیغام دیا۔۔آئی ٹی کی میٹنگ کے لیے رات سے 8بجے کا الارم لگایاہوا تھا اور ٹھیک نو بجے مجھے ایک رکن جماعت کے گھر پہنچنا تھا وہیں سے مجھے گاڑی نے لینا تھا
اپنے مقررہ وقت پر الارم نے بجنا شروع کر دیا۔۔اور حسب معمول میں نے الارم بند کیا اور کروٹ بدل کے سو گئی۔15 منٹ بعد پھر بول پڑا۔۔پھر آنکھیں بند کی یہ سوچتے ہوئے کمبل منہ تک اوڑھا
کہ دس منٹ اور آنکھ لگا لوں۔۔آنکھ تو لگنی تھی لگ گئی۔۔پر جب کھلی تو بس آنکھ نہیں کھلی آنکھیں ہی کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ موبائل کی گھڑی آٹھ بج کر تینتیس منٹ کی خطرناک ساعت تک پہنچ چکی تھی
پھر کیا میں سرعت سے اٹھی برش کیا ۔وضو کیا اور گاؤن پہن کے اپنا سامان سمیٹنے لگ گئی۔۔ایک نظر گھڑی پر اور ایک تیاری پر۔۔دیکھتے ہی دیکھتے گھڑی نے آٹھ بج کر پچاس منٹ بجا دیے۔۔
اور ذہن میں ایک جھٹکا سا لگا کہ اوہ۔۔۔۔ابھی تو سنٹر سے ملٹی میڈیا بھی لینا۔۔۔حسبی اللہ!!!! پھر یاد آیا ٹیم سے پوچھوں کہ سب تیار ہیں نا تو ٹھیک نو بجے پہنچ جائیں پر ایک اور رکاوٹ۔۔۔کہ نو بیلنس۔۔۔۔
خیر جیسے تیسے گھر سے نکلی اور سنٹر سے ملٹی میڈیا پکڑا اور رکن جماعت کے گھر کی راہ پکڑ لی جو سنٹر سے تھوڑا قریب تھا۔۔رستے میں نظر پڑتے دکانوں کو دیکھتی رہی ۔۔ایک بیکری نظر آئی مگر افسوس وہ بند تھی۔۔
پھر تھوڑا آگے چلی تو رکن جماعت کے گھر سے دس قدم پہلے ایک چھوٹی سی دکان نظر آئی جو غالبا نئی دکان تھی پہلے اس جگہ کبھی نہیں دیکھی۔۔
بس تیزی سے یہ سوچتے دکان میں گھس گئی کہ نو بج کر پانچ منٹ ہو چکے
بس تیزی سے یہ سوچتے دکان میں گھس گئی کہ نو بج کر پانچ منٹ ہو چکے
اور میں کہاں وقت کی اتنی پابندی کرنے والی اور آج یہ انہونی۔۔۔۔۔ایک ادھیڑ عمر بزرگ محترم کرسی پر براجمان تھے جلدی میں ان پر اتنی گہری نظر تو نہ ڈال پائی
مگر پہلی نظر میں ہی اتنی سی تصویر ضرور دماغ میں بیٹھ گئی
مگر پہلی نظر میں ہی اتنی سی تصویر ضرور دماغ میں بیٹھ گئی
کہ بزرگ کوئی اسی کی عمر کے قریب قریب لگ رہے تھے سفید و سیاہ لمبی داڑھی تھی اور خود بھی لمبے اور پتلے۔۔۔اور نہایت خوش مزاج۔۔۔
یوفون کا کارڈ ہے؟؟؟ بزرگ محترم تھوڑی دیر مجھے تکتے رہے پھر فرماتے ہیں۔۔
!!!!!السلام علیکم
!!!!!السلام علیکم
میں ایک دم چونکی اور پہلے لمحے تو بے حد شرمندگی ہوئی اور سلام کا جواب دیا یہ سوچ کر کے جلدی میں آتے ہی سلام کرنا بھول گئی۔۔دوسرے ہی لمحے حیرت ہوئی۔۔کہ یہ بزرگ کتنی اچھی اور نیک عادات کے معلوم ہوتے ہیں اور یہ فکر نہیں کہ گاہک آیا
اور اسکو مطلوبہ چیز دی جائے مگر انہوں نے پہلے تبلیغ کا کام کیا۔۔اسی اثناء میں وہ بزرگ محترم اٹھے اور دیوار کے ساتھ لگی الماری کے درا زسے کارڈ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں : بیٹٰی سب سے پہلے سلام کرتے ہیں کارڈ سے تو آپ کو دو تین روپے بچ جائیں گے
پر سلام کرنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں تو ہمیں سب سے پہلے سلام کرنا چاہیے۔۔۔۔میں شرمندگی و حیرت میں مبتلا جی جی کرتی رہی۔۔۔اور اگلے ہی لمحے خوشی بھی ہوئی کہ شکر ہے ہمارے معاشرے میں ایسے کاروباری لوگ بھی موجود ہیں جو
دوسروں کی اصلاح کرنے والے ہیں۔۔۔کارڈ پکڑا جزاک اللہ کہا تو وہ برزگ محترم خوش ہوکر مسکرانے لگے۔۔۔اور میں بھی مسکراتے باہر آگئی۔۔
ان بزرگ کو میں سارا دن نہیں بھولی نہ بھولوں گی۔۔ا


Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں