شاہدرہ ویلی(تفریحی مقام اسلام آباد) نام تو بہت سنا تھا بالآخر دیکھنے کا اتفاق بھی ہو گیا
طے شدہ وقت کے مطابق گھر والوں کے ہمراہ صبح روانگی ہوئی۔اسلام آباد کا پرسکوں
اور حسین مناظر سے بھرے سفر کااپنا ہی ایک مزہ ہے سفر کا ساتھی ہمراہ نہ بھی ہو تب بھی
اس سفر سے لطف و اندوز ہوا جا سکتا ہے۔تقریبا پونے پانچ گھنٹے کی مسافت سے ہم اپنے
مقام کو پہنچے۔جگہ دیکھ کر سب کی ہی تھکان اتر گئی اور اپنے کھانے پینے اور دیگر ضروریات
کا سامان پکڑا اور جا ٹھہرے اس ٹھنڈے چشمے سے بہتے پانی کی وادی میں۔۔۔۔
لوگوں کا ہجوم بے حد تھا۔۔کوئی اپنے اہل و عیال کے ہمراہ تھا تو کوئی اکیلے ہی موج مستی کر رہا تھا
۔۔کوئی دوستوں کے ساتھ تھا تو کوئی بیگم کو گھر چھوڑے بچوں کے ساتھ مزے کر رہا تھا تو
کہیں چند لڑکیاں اپنی شرم و حیاء کو بیچے پانی میں اپنی عزت بہا رہی تھیں تو کہیں نیا شادی شدہ جوڑا گلچھہڑے
اڑا رہا تھا۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی ہم نا جانے یہ بات کہاں سے لکھوا لائے کہ ایک مرد و عورت کے لیے
جب وہ ازدواجی رشتے میں منسلک ہو جائیں تو ان کے لیے سر عام ہر طرح کا فعل (خصوصا رومانوی)
کرنا جائز ہو جاتا ہے اور کوئی ان کو روکے تو میاں بیوی بننے کی سند دیکھا دی جائے۔۔خیر یہ تو ایک الگ موضوع ہے
جسے پھر کبھی زیر بحث لائیں گے۔۔اچھا تو بات ہو رہی تھی وہاں کی ہجوم کی..
اس ہجوم میں دو خوبصورت ترین سیاہ و سفید رنگ کے بطخ کے بچے بھی تھے جو پانی میں نہاتے نہایت ہی دل موہ لینے
والے لگ رہے تھے۔۔ہر ایک کے میز کے نیچے سے ہوتے ہوئے ایک ساحل سے دوسرے ساحل
پہ جا پہنچتے۔۔۔اور پھر کچھ دیر کے لیے پانی سے نکلتے خشکی پر کھڑے ہوکر
خود کو اچھی طرح جھاڑتے اور پھر پانی میں ڈبکی لگا لیتے۔۔اصل قدرتی نظارہ تو یہ تھا دیکھنے والا
مگر بدقسمتی سے سب کی توجہ اس معصوم بے زباں جوڑے کی بجائے اس بے ہودہ شادی شدہ جوڑے پر تھی اس جوڑے میں شوہر جو بیچ پانی میں کھڑے
ہوکر بیوی کی ہر ہر زاویے سے تصویر بنانے میں مصروف تھا اور لوگوں کی توجہ کا مرکز تھا
خیر وقت دیکھا تو احساس ہوا کہ ظہر کا وقت نکل نہ جائے تو نماز پڑھنے کی جگہ تلاش کی جائے
والدہ محترمہ کو بھی نماز کی فکر ہو رہی تھی کہ کھانا پینا بعد میں پہلے نماز۔۔
میں اپنی والدہ کے ہمراہ وہاں گھومتے ہوئے پٹھان بچوں سے جو کہ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء
دینے پر ہوٹل والوں کی طرف سے معمور تھے ان سے پوچھا کہ یہاں بیت الخلاء کدھر ہے جہاں وضو کیا جا سکے
بے انتہا ہجوم کے باعث سر عام وضو کرنا محال تھا۔۔اس لڑکے نے جواب دیا۔یہاں سے سیدھے ہاتھ پہاڑی پر چڑھ جائیں
وہیں بیت الخلاء ہے۔۔خیر میں اور والدہ محترمہ چل پڑے۔والدہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رفتار بھی دھیمی رکھنی پڑی ورنہ اس پہاڑی پر شاید ہی کچھ وقت لگتا تو پہنچ جاتی۔۔ہم چلتے گئے چلتے گئے۔۔۔۔
کچھ لوگ اوپر پہاڑی سے نیچے آرہے تھے ۔۔پھر کسی سے پوچھا یہاں بیت الخلاء کہاں ہے؟؟
تو انہوں نے بائیں ہاتھ کا اشارہ اپنے پیچھے بائیں جانب کرتے ہوئے اور اپنے چہرے کا رخ بھی تھوڑا بائیں جانب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سامنے پل ہے اس کو کراس کر کے اوپر سیڑھیاں چڑھ جائیں وہ نیلی ٹینکی نظر آرہی وہ بیت الخلاء ہے
میں اور والدہ محترمہ جی جی کا سر ہلاتے اور الفاظ بولتے پھر چل پڑیں۔۔
خیر پل بھی عبور ہو گیا اور چالیس کے قریب سیڑھیاں بھی عبور ہو گئیں اور وہ مقام آگیا جہاں وضو کرنا تھا
والدہ محترمہ تو پہنچتے ہی وہاں موجود خالی کرسی میں بیٹھ کر اپنی سانسوں کو بحال کرنے لگ گئیں
اور میں اوپر بلندی سے نیچے کا نظارہ دیکھنے لگ گئی کہ کہاں سے کہاں آئے۔۔اور اجر بھی تو اسی میں۔۔۔۔
اور اپنے موبائل میں حسین نظاروں کی تصاویر لینے لگ گئی
اتنی دیر میں امی سانسیں بحال کر کے وضو بھی کرچکی تھیں
خیر درختوں کے بیچ بیت الخلاء کے باہرگلابی رنگ کا ٹوٹا ہوا بیسن لگا ہوا تھا میں بھی فورا وضو کرنے لگ گئی
ابھی حجاب کھول رہی تھی کہ ایک بچی جو بیسن کے ساتھ بنے ایک بڑے پتھروں کے بیچ درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی
اچانک مجھے پکارا " آنٹی!!! یہ بچی آپ کے ساتھ آئی ہے؟؟؟ میرا دھیان اس بچی پر جانے کی بجائے اس دس سالہ بچی پر گیا جس نے مجھے پکارا وہ بچی کیا تھی کوئی حور ہی لگ رہی تھی۔۔حور کو دیکھا تو نہیں میں نے مگر جتنا پڑھا
کہ بڑی بڑی نیلی آنکھوں والی سفید رنگت پتلے اور سرخ ہونٹ اور گولڈن بال جس کو بینڈ میں قید کیا ہوا ۔۔۔
جو قرآن میں پڑھا تھا احسن الخالقین انسانوں کی مخلوق کو کہا جاتا ہے تو اس بچی کو دیکھتے ہی احسن الخالقین کا اندازہ ہوگیا۔۔۔ اس کا بغور جائزہ لینے کے بعد اس بچی پر دھیان گیا جس کے بارے میں اس حور نے مجھ سے پوچھا تھا،میلے کچیلے کپڑے اور دوپٹہ سر پر لیے وہ بھی درخت کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔
میں نے کہا: نہیں یہ میرے ساتھ نہیں آئی شاید کوئی مانگنے والی ہے
میری اس بات کا جواب اس بچی نے نہایت ناگواری اور ناک چڑھاتے دائیں جانب چہرہ کرتے ہوئے کہا:
" جی نہیں!!! میں مانگنے والی نہیں ہوں"
مجھے کچھ پل شرمندگی کا احساس ہوا مگر میں پھر اس حور کی جانب متوجہ ہوئی
اس کی سریلی اور نازک آواز میں دل چاہا کچھ باتیں سنوں
میں نے پوچھا: آپ یہاں رہتی ہو؟؟؟
جواب ملا: نی نی نی۔۔میں یہاں سے تھوڑی دور رہتی ہوں
میں نے پوچھا: کون سی کلا میں پڑھتی ہو؟؟؟
جواب ملا: پانچویں کلاس میں
میں نے پاچھا: آپ کا سکول یہاں ہی ہے؟
جواب ملا: نی نی نی۔۔۔دور ہے
جس معصومیت سے اور تیز تیز وہ نی نی نی(ںہیں نہیں نہیں) کہتی تھی دل چاہا کوئی ایسا سوال کروں کہ
پھر اس کی " نی نی نی" سنوں۔۔۔
پھر میں نے پوچھا: آپ کا اسکول انگلش میڈیم ہے؟
جواب ملا: نی نی نی۔۔۔۔۔اردو ہے
واہ مزہ آگیا " نی نی نی"
میں نے پھر وہی سوال دہرایا : آپ کا گھر یہی پر ہے؟
جواب ملا: نی نی نی۔۔۔۔میں نے بتایا نا یہاں سے دور ہے
میرا دل کیا مزید منفی سوال کروں اور وہ ایسے ہی" نی نی نی" کرتی رہے
مگر نماز پڑھنے آئے تھے سو وضو کرنے لگ گئی۔۔
وضو سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی جانب گئی جو کہ جوڑوں کے درد کی بیماری کے باعث
کرسی پر ہی بیٹھ کر نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں بھی جگہ دیکھنے لگ گئی کہ یہ تو کچھ پتھریلی جگہ ہے اور ایک گزر گاہ بھی
کچھ سیڑھیاں نیچے اتر کر بھی ایک چھوٹا میدان تھا جہاں جگہ جگہ کچھ گھاس بھی تھی سوچا وہیں جا کہ پڑھ لوں سیڑھیاں اترنا شروع کی مگر پھر سوچ آئی" ناجانے جگہ صاف ہو یا نا جائے نماز یا کوئی کپڑا ڈال لوں اور جائے نماز تو بہنوں کے پاس موجود سامان میں ہے اچھا میں امی کو بتا دوں کہ میں جائے نماز لینے جارہی " پیچھے واپس مڑی اور دیکھا ابھی والدہ محترمہ نماز میں ہی مشغول تھیں اتنے میں کیا دیکھتی ہوں کہ وہی بچی جو میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس تھی جسے میں "فقیر" تصور کر رہی تھی۔۔اوپر کی سیڑھیوں سے بھاگتی ہوئی دائیں ہاتھ میں جائے نماز لیے تیزی سے نیچے اتر رہی تھی اور میری طرف آکر مجھے جائے نماز پکڑا دیا
میں اس لمحے حیران زیادہ اور اس سے زیادہ شرمندہ بھی کہ میں نے اسے کیا سمجھا اور معلوم کرنے پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ وہ بچی اسی علاقے کی مقیم ہے اور اوپر پہاڑی پر اس کا گھر ہے اور وہ " فقیر" نہیں ہے
مجھے اس کے اس جملے کو یاد کر کے پوری نماز میں شرمندگی ہوتی رہی
" جی نہیں!!! میں مانگنے والی نہیں ہوں"
اب جب بھی اس بچی کی یاد آتی ہے دل ہی دل میں شرمندگی ہوتی ہے




Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں