انسان کو مجبوریاں کیا کیا کروا دیتی ہیں۔۔۔
آج حسب معمول سنٹر جانے کے لیے تیار ہوئی تو دیکھا میرے پاس سیاہ رنگ کی چوڑیاں موجود نہیں ہیں۔۔چوڑیوں کی دیوانی ہونے کے ساتھ ساتھ کپڑوں کے رنگ کے مطابق ہم رنگ چوڑیاں پہننا میرا شوق بھی اور ایک عورت کی زینت بھی۔ سنٹر سے دیر بھی ہورہی تھی اور خواہش مچل رہی تھی بازار میں گھر ہونے کا فائدہ اٹھایا جائے۔۔ جاتے ہوئے رستے میں چوڑیاں خرید لی جائیں۔۔ سو اسی شوق میں سنٹر کے رستے کو بدلتے ہوئے پہلے اپنا رستہ چوڑیوں والی دکان کی جانب کیا۔
گھر سے نکلی تو خیال آیا کہ قریب میں تو کوئی ایسی دکان نہیں جہاں سے بآسانی دستیاب ہوں اگر بازار کے دوسرے جانب جاؤں تو مزید دیر ہوگی۔۔یکایک خیال آیا کہ اسی بازار میں ایک لڑکی کی دکان ہے جہاں چوڑیاں بھی موجود ہوتی ییں۔خوشی خوشی اپنے رستے پر گامزن ہوئی اور دکان پر پہنچی تو جو بڑی لڑکی پہلے موجود ہوتی تھی اب نہیں تھی غالبا اس کی چھوٹی بہن تھی۔۔جو اس سے یکسر مختلف سر پر ڈوپٹہ لپیٹے بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی جب کہ اس کی بڑی بہن کو میں نے گزشتہ پانچ سال سے بے پردہ ،مکمل میک اپ اور بال سنوارے مختلف ڈیزائن میں ہی دیکھا۔۔اس دکان کے پاس سے گزرتے ہمیشہ دل کڑھتا ہے کہ ایسے ماحول میں یہ دکان لگا کر کیوں بیٹھی ہے۔۔کئیں مرتبہ کہا بھی کہ بہن سر ڈھانپ کر بیٹھا کرو۔بہن آپ کو ایسی کیا مجبوری کے اس شہر میں جب کہ یہاں ایسا ماحول نہیں کہ لڑکی سیلز گرل کا فریضہ سر انجام دے تو یہی جواب ملتا کہ ابو بیمار ہوتے ہیں اس لیے ہمیں بیٹھنا پڑتا ۔بھائی ہے نہیں۔جسے ہی ابو ٹھیک ہوں گے تو وہی بیٹھا کریں گے۔مگر پانچ سال بیت گئے اس دکان پر اس جوان لڑکی کے سوا کسی کو نہیں دیکھا۔۔خیر ۔۔۔
السلام علیکم(میں)
وعلیکم السلام(دکاندار لڑکی)
کالے رنگ کی سادی چوڑیاں ہوں گی(میں)
ہمممم(کچھ سوچتے ہوئے اور دائیں جانب دیوار پر نظر ڈالتے ہوئے)کس سائز میں چاہیے؟؟
سوا دو انچ(میں)
وہ تو نہیں ہے۔اڑھائی انچ میں ہے(دکاندار لڑکی)
نہیں وہ تو بڑا سائز ہے۔۔ہممم کیا کروں اب۔۔(پریشان و مایوس ہوتے ہوئے میں نے کہا) آپ ایسا نہیں کرسکتیں کہ یہ جو(رنگا رنگ دلہن چوڑیوں کے سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)سیٹ لگے ہیں اس میں سے کالے رنگ کی نکال کے دے دیں۔
اس طرح تو سیٹ خراب ہوجائیں گے(دکاندار لڑکی مسکراتے ہوئے)
آپ کے پاس جب سوا دو انچ کے سائز کی آجائیں تو آپ سیٹ میں ڈال لیں ۔برائے مہربانی مجھے نکال دیں(میں)
اچھا ۔۔آپ کہتیں ہیں تو نکال دیتی ہوں(دکاندار لڑکی مسکراتے ہوئے)
شاید اسے دکانداری نہیں آتی تھی اسے لیے آسانی سے مان گئی
اسی اثناء میں اس نے سیٹ سے چوڑیاں نکالنی شروع کیں اور میرا دھیان اچانک باہر کی جانب گیا جو ایک لڑکا درمیانی عمر کا اپنی دکان کے باہر اس دکاندار لڑکی کی جانب دیکھے جا رہا تھا۔۔میرے دل کو ایک دم ٹھیس پہنچا اور وہی خیال آیا کہ ایسی کیا مجبوری ہوسکتی کے بیچ مصروف ترین بازار میں ایک زنانہ دکان ڈالنی پڑی۔۔مجھے اسی معصوم دکاندار لڑکی جو کم و بیش سولہ سترہ سال کی لگ رہی تھی سے ہمدردی محسوس ہوئی۔۔۔اتنے میں اس دکاندار لڑکی نے چوڑیاں نکال کر لفافے میں ڈالنے لگی تو میں نے کہا نہیں مجھے دے دیں میں نے ابھی پہننی ہیں۔میری اس بات پر وہ پھر مسکرائی اور سوچتی ہوگی کہ کیسی عجیب لڑکی ہے ایسی کیا اشد ضرورت در آئی کہ سیٹ خراب کروا کے فورا پہننے کی کی،،تیزی سے پہنتے پہنتے ایک چوڑی ٹوٹی تو میرے دائیں ہاتھ کو دو جگہ سے زخمی کر گئی اور خود بھی مر گئی۔۔۔ ظاہری بات ہے کسی کو زخم دو گے خود بھی کہاں جی سکو گے۔۔میرے اس جنونی پن کو دیکھتے ہوئےبالآخر اس نے پوچھ ہی لیا۔۔
آپ ٹیچر ہیں؟۔۔میں مسکرائی اور کہا یہی سمجھ لیں۔۔۔۔۔
پھر پیسے نکال کر دیے تو اس کے پاس چینج نہیں تھا۔۔باہر نکلی اور اسی لڑکے کی طرف متوجہ ہوئی اشارے سے پوچھا اس نے بھی اشارے سے نہیں کا جواب دیا۔۔پھر دوسری دکان پر متوجہ ہوئی ایک بزرگ آدمی بیٹھے تھے ان سے اشارے سے پوچھا۔۔تو ان سے پیسوں کا توڑ مل گیا۔۔۔میں جو اسے بغور دیکھ رہی تھی دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بہن آپ ایسا کریں کہ یہاں ایک پردہ لگا لیں اس لڑکی نے پھر مسکراتے ہوئے جواب دیا جی جی لگانا ہےاور چوڑیوں کے پیسے کاٹ کر بقیہ میرے حوالے کیے میں جزاک اللہ کہتی سنٹر کی طرف بڑھ گئی۔۔مگر اس سارے رستے یہی سوچتی رہی۔۔۔کہ اس جوان لڑکی کو اگر کسی شدید مجبوری نے گھر سے نکال کر بیچ بازار میں بٹھا ہی دیا ہے تو ایک تو اس لڑکی کے گھر والوں کو چاہیے کہ مکمل پردے میں بٹھائیں اور دوسرا آس پاس کے دکانداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسے عزت کا مقام دیں کیا کسی ایک بھی مرد نے سوچا کہ یہ بھی کسی کی بیٹی کسی کی بہن ہے کیا ان کی بہن یا بیٹی یوں بیچ بازار میں دکان کھول کر بیٹھ جاتی تو کیا ان کو اچھا لگتا۔۔۔کسی مرد نے احتجاج کیا کہ ہم جوان بچیوں کو ایسے نہیں بیٹھنے دیں گے اگر بیٹھنا ہی ہے تو پردہ لگا کر بیٹھے۔۔مگر کوئی کیوں کہتا ایک نمونہ موجود تھا ہر وقت دل بہلانے کا۔۔دکانداری ان کی دوگنی چل رہی تھی اور اس مجبور جوان لڑکی کی بھی۔۔آج کل کے بے حس دور میں بھلا کون کسی دوسرے کی بیٹی کو اپنی بیٹی کا مقام دے سکتا ہے۔۔کون ہے جو کسی کی لڑکی کو بہن کی نظر سے دیکھے۔۔کون ہے جو عورت کو عزت کا مقام دے۔۔جہاں قصور ان جوان لڑکیوں کے گھر والوں کا ہے وہیں قصور اس معاشرے کا ہے جس نے یہ سوچ دی کہ عورت آزاد ہے۔۔۔اور قصور ہمارا بھی ہے۔۔۔کہ ہم کڑھنے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتے


Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں