خالد صاحب رمضان آرہا ہے ہم نے اس بار مسز تبسم آراء اور ان کی فیملی کی افطار پارٹی بھی کرنی ہے یاد ہے نا ۔۔۔۔پچھلے سال انہوں نے ہماری کی تھی۔۔۔۔
اخبار  کے مطالعے میں گم ایڈووکیٹ خالد بٹ نے پڑھتے ہوئے سر ہلایا اور منہ بند کیے "ہمم" کا جواب دیا۔۔۔بیگم تلملاتے ہوئے میری طرف توجہ کرتے ہوئے بات سنیں نا کہ ہماری افطار پارٹی ان سے زیادہ اچھی ہونی چاہیے(ساتھ ہی اخبار پر جھپٹتے ہوئے) خالد بٹ مسکراتے ہوئے :جیسا آپ کہتی ہیں ویسا ہی ہوگا ایسی شاندار پارٹی کے وہ دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے۔۔بھئی بٹ ہیں ہم ۔۔۔کسی سے کم تو نہیں۔۔۔بیگم سکون کی سانس لیتے اور مسکراتے ہوئے۔۔ٹھیک ہے زبردست اہتمام کریں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہو! میں تو کہتی ہوں کہ رمضان میں ہی شرجیل کا نکاح رکھ لو بڑا ہی بابرکت مہینہ ہے اور کام بھی برکت والا۔۔اللہ دونوں کو بہت رنگ لگائے گا۔۔۔
اماں!!!!پھر آپ نے وہی رٹ لگا دی کہا بھی تھا کہ ہم نے رمضان میں نہیں کرنی کیا مزہ آئے گا نہ ڈھولکی نہ ڈانس نہ اور کچھ لوگ کیا سوچیں گے کہ شاید ہم پیسوں کی وجہ سے رمضان میں کر رہے اور آنے والے مہمانوں کی افطاری کروائیں گے کتنا برا لگتا ہے شادی پر کون یہ کام کرتا ہے  بھئی آپ بھی نا۔۔۔بس ایک بات کے پیچھے پڑ جاتی ہیں۔۔
سکینہ بیگم  ٹوٹے دل اور حیران صورت کے ساتھ بہو کو تکتے رہ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انعم بیٹی ابھی سو جاؤ تھوڑا اور سحری کرکے باقی پےپر کی تیاری کر لینا۔۔۔۔
ماما میں کل روزہ نہیں رکھوں گی
ہیں۔۔۔۔۔۔کیوں؟؟؟؟؟ نسرین ہکا بکا بیٹی کو دیکھتے رہ گئی
ماما آپ کو پتہ بھی ہے کل اتنا ٹف پے پر ہے اور ایگزامینیشن ہال تک جاتے بھی اتنی دیر لگ جاتی ہے پیدل جانا پڑتا ہے اتنی پیاس لگتی ہے آج بھی روزہ رکھ کر برا حال تھا بس کل سے میں روزے نہیں رکھ رہی۔۔
بیٹی ایسا نہیں کہتے ایسی حالت میں ہی تو اتنا اجر ہے روزوں کا۔۔روزے اللہ کو بے حد پسند ہیں اور سخت حالات میں تو اور بھی پسند ہوتے ہیں ایک مسلمان کو وہی کام کرنا چاہیے جو اللہ کو پسند ہو
ماما بس کریں لیکچر بس میں نے کہہ دیا نہیں رکھنا روزہ تو بس۔۔۔۔۔۔بعد میں رکھ لوں گی
نہیں بیٹی ۔۔۔تمہیں پتہ ہے کہ جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے کا کس قدر شدید گناہ ہے
ماما اللہ معاف کردے گا وہ بہت رحیم ہے
پر انعم بیٹی یہ مت بھولو وہ شدید العقاب بھی ہے اگر تم جان بوجھ کر روزہ چھوڑو گی تو سارا سال بھی روزے رکھو تو قابل قبول نہیں ہوں گے
اف ہو ماما۔۔۔۔۔۔۔دیکھی جائے گی ۔ابھی پلیز آپ  جائیے میں باقی کا پڑھ لوں
ماں مایوس چہرے کے ساتھ کمرے سے باہر آگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول خالہ لوگوں کو ائیر پورٹ پررخصت  کر کے گاڑی میں بیٹھی تو کزن نے اونچی آواز سے گانے لگا رکھے تھے
سنی !!ہم سب کا روزہ ہے اور تم نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے یہ گانے بند کردو۔مت سنو
ارے  بہن کچھ نہیں ہوتا۔۔۔
کیوں نہیں ہوتا۔۔روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔۔
؎کیسے ٹوٹتا ہے میں کونسا گانا کھا رہا ہوں۔۔
روزہ صرف پیٹ کا نہیں ہوتا ہمارے کان،آنکھ،زبان،دل،دماغ سب کا روزہ ہوتا ہے۔۔۔
اچھا تم کان بند کرلو پر گانا بند نہیں ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی اور اس طرح کی بے شمار کہانیاں ہم سنتے بھی ہیں اور آنکھوں سے دیکھتے بھی ہیں۔۔۔ہمارے معاشرے میں رمضان میں تین طبقے بن جاتے ہیں
ایک وہ جو بہت تہجد گزار،نیک اور خدمت گزار اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والا ہوتا ہے،دوسرا وہ جو صرف رمضان میں متقی ہوتا ہے اور باقی گیارہ ماہ آزاد ہوتا ہے ،تیسرا وہ طبقہ جسے رمضان کے آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی زندگی آگے بھی آزاد تھی رمضان میں بھی آزاد ۔۔۔۔ہمارے ہاں جہاں لوگ روزے کا مطلب بڑی واضح طریقے سے سمجھتے ہیں وہیں بے عقل  اور جاہل لوگ روزے کے مقاصد سے نا آشنا ہیں۔۔اور اصل میں وہ جاہل اس لیے نہیں کے وہ پڑھے لکھے نہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈر افراد ہوتے ہیں جن کے نزدیک روزے کا مطلب محض پیٹ کو کھانے پینے سے نہ بھرنا ہے باقی روزہ کوئی شے نہیں۔۔اوپر تحریر کیے گئے چند دردناک اور جہالت سے بھرے واقعات اس بات کا شاندار ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ ہم علم والے ہوکر بھی لا علم ہیں۔۔اور دنیا میں محض چرنے آئے ہیں۔۔۔رمضان میں بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کے نمود و نمائش کا ثبوت دینا اور بدلے کی افطار پارٹیاں کرنا۔۔فخر جتلانا۔۔۔دوسروں کو نیچا کرنا۔۔۔رمضان کی تیاری سے زیادہ عید کی فیشن ایبل تیاری پر توجہ دینا۔۔۔روزے کی حالت میں ٹیلی ویژن پر بے ہودہ پروگرام دیکھنا۔۔۔لایعنی و لغویات میں مشغول رہنا۔۔۔لڑنا جھگڑنا اور بچوں پر چیخنا چلانا۔۔۔اللہ کے قرآن سے تعلق جوڑنے کی بجائے کچن سے تعلق کو مضبوط کرنا۔۔۔نیکیاں سمیٹنے کی بجائے کچن کی الماری کو کھانے پینے سے بھرنا۔۔۔۔
رات بھر ٹیلی ویژن پر چلنے والے نائیلہ و اوساف کے پروگرام دیکھنا اور اپنی بابرکت راتیں برباد کرنا۔۔۔۔گرمی کے روزوں کو بلا وجہ چھوڑنا۔۔۔ناز نخرے کرنا۔۔۔
پیٹ کو خالی رکھتے روزہ سمجھنا کوئی روزہ نہیں۔۔یہ روزہ نہ تو متقی بنائے گا نہ ہی ہمارے بخشش کروائے گا۔۔
آپﷺ نے فرمایا: "برباد ہوا وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا"
کیا یہ سارے ساماں اور عمل ہماری بربادی کے لیے کم ہیں؟؟؟
یہ یقینا تباہ و برباد کرنے والے ہیں۔۔۔خود کو تباہی سے بچانے کا ایک ہی حل ہے کہ ہم ابھی سے اپنے دلوں کو راضی کرلیں کہ یہ ماہ ضائع نہیں کریں گے، اس بار ساری رحمتیں ،ساری برکتیں سمیٹ لیں گے۔۔۔"فاستبقو الخیرات" پر عمل کریں گے۔۔اس کے لیے ہمیں مطالعے کو بڑھانا ہوگا۔رمضان کے حوالے سے خصوصی کتابچے اور کتابیں بازار میں دستیاب ہیں۔۔ہمیں چاہیے ہم اس کتابوں سے استفادہ لیں۔۔۔اور یہ رمضان اپنے نام کرلیں۔۔ 



Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours