ایک تحریکی ساتھی کے اصرار پر کہ میں اپنے پہلے روزے کی بابت کچھ تحریر کروں،،کچھ یاد تو نہیں پر جب یاداشت پر زور ڈالا تو آہستہ آہستہ سب یاد آتا گیاکہ پہلا روزہ۔۔۔۔ہاں یاد ہے والدین نے الحمدللہ بچپن سے ہی روزہ رکھنے کی عادت ڈال رکھی تھی اور کچھ بچپن کا شوق بھی تھا کہ سب بڑے رکھتے ہیں میں بھی رکھوں.،،رمضان سے پہلے ہی ہمارے گھر رونق شروع ہوجاتی تھی،،بچپن آبائی شہر فاروق آباد جو شیخوپورہ سے کچھ آگے واقع ہے میں گزرا جہاں سب دودھیالی رشتے دار ہیں اور رمضان اور اس سے قبل آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہتا تھا والد محترم مرحوم (اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے)زمیندار ،کاروباری اور کونسلر آدمی تھے حویلی میں افطاری و سحری کا سلسلہ چلتا رہتا تھا امی جان کو بچپن سے ہی کچن میں دیکھااور تب کے روزے سخت سردی کے روزے ہوتے تھے جن کا اپنا ہی مزہ تھا،،مجھے یاد ہے امی جان سحری کے لیے جب جگاتی تھیں اور کمبل سے نکلنے کا دل نہیں کرتا تھا پر روزہ رکھنے کا شوق بھی تھا لہذا بعض اوقات تو بغیر کلی کیے بستر پر بیٹھے ہی روزہ رکھتی جس پر والدین سے سخت ڈانٹ پڑتی تو پھر کلی کر کے منہ دھو کے فورا بستر میں گھس جاتی اور ایک ہاتھ اندر کمبل میں اور دوسرا ہاتھ باہر ،،گویا ایک ہی ہاتھ سے ساری سحری ہوتی تھی ،،، سحری کرکے نماز پڑھی اور سو گئی،، اسکول جانے کے لیے اٹھنا تو کبھی روزے کا بہانہ کرکے امی سے ناجانے کی درخواست کرنی پر میری خاموش طبیعت بچپن سے ہی میرے ہر کام میں رکاوٹ رہی لہذا بجائے اس کے کہ میری کم گوئی پر ترس کھایا جائے سب کو پتہ ہوتا تھا یہ ضد نہیں کرتی جلد مان جاتی ہے لہذا جانا پڑتا،،اسکول میں بچیوں کے سامنے روزے کا رعب بھی ڈالنا ہوتا تھا،،گھر آکر جب بھوک ستاتی تو امی جان سے اجازت لے کر کچھ کھانا چاہتی تو امی کہتیں کہ بچوں کا روزہ بارہ بجے تک ہوتا ہے جس کو عرف عام میں "چڑی روزہ" کہتے تھے یوں دن بارہ بجے افطاری ہوتی اور وہی سحری بھی ہوتی،،،پھر بارہ بجے سے شام تک دوسرا روزہ شروع ہو چکا ہوتا تھا اور دن بھر بڑوں سے جو جو پیسے ملتے اس کی چیز خرید کر افطاری کے لیے رکھ دی جاتی جس میں مشہور زمانہ "کڈکو ٹافی"،"کینڈی بسکٹ" ،"گلابی اور کلیجی رنگ کی کھوپرا والی "ٹافی بھی شامل تھی سب خرید کر گدے کے نیچے چھپا دیتے تھے تاکہ افطاری سے پہلے کوئی کھا نہ لے اور دن میں دس دفعہ گدا اٹھا کر بار بار تسلی کرنا کہ وہیں موجود ہے نا،،، پھر روزے کا خیال اب کی نسبت تب زیادہ ہوتا تھا کہ جھوٹ بولا تو روزہ ٹوٹ جائے گا لڑائی کی تو روزہ نہیں رہے گا جب کبھی ساتھی کوئی جھوٹ بولتی تو جھٹ سے متقی و صالحہ بن کر اسے سرزنش کیا جاتا دیکھو تمہاری زبان کالی ہوگئی ہے تو وہ پریشان اور گھبرا جاتی باقی ساتھیوں سے تصدیق کرتی تو وہ بھی کہتیں ہاں ہاں کالی ہوگئی ہے تو اس کے چہرے کا رنگ مزید اڑ جاتا،،،پھر حقیقی افطاری کا وقت آجاتا ہے امی جان کے ساتھ ہر چھوٹا کام کروایا جاتا،، پھر گدے کے نیچے سے اپنی کھانے پینے کی چیزیں نکالی جاتیں اور افطار کجھور کی بجائے بعض اوقات ان اشیا۶ سے کیا جاتا جو گدے کے نیچے سنبھال رکھی تھیں،،یوں ایک روزہ پورا ہوتا اور پھر"چڑی روزوں" میں تو کبھی کبھار چھوڑنا بھی ہوتا،،مگر الحمدللہ روزوں کی پابندی بچپن سے ہی ہے،،،اگرچہ روزے کا مفہوم و مقصد اب سمجھ میں آیا ہے۔
Home
Unlabelled
میرا پہلا روزہ
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)


Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں