ٹیلی ویژن پر مفتی منیب الرحمن کے میڈیا پر برہم ہونے اور شہادتیں وصولی کی تردید کے بعد پوری عوام کو یقین تھا کہ کل تیس روزے پورے کرنے ہیں۔دل کو کچھ سکون ملا کہ چلو ایک دن اور مل گیا کمیوں کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے پر اچانک چاند نظر آنے کی خبر سے جہاں خوشی بھی تھی وہیں دل کے کسی کونے میں کوئی ملال ،غم و کوئی احساس تھا جو چبھ رہا تھا اور ابھی تک ایک خلش موجود ہے جہاں گردو نواح اور خود میرے گھر میں عید کی رونقیں دوبالا ہیں ناجانے کیوں دل اندر سے اداس و غمگین ہے کاش ایک دن اور مل جاتا۔۔۔۔رمضان آیا اور چلا گیا۔۔اور ان شاء اللہ زندگی رہی تو پھر نصیب ہوگا مگر اس رمضان کیا پایا کیا کھویا؟؟؟؟ خود سے سوال ہے اوراپنا پورا کردارو عمل جواب ہے۔۔اپنے آپ کو خود سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔۔۔
آج کیا ملنا ہے کیا کھونا ہے دل مضطرب ہے۔۔اتنی سکت تو نہ تھی کہ گرمی کے روزے سخت روٹین میں پورے کیے جاتے ناجانے کیسے پورے ہو گئے۔۔روزہ اللہ کے لیے ہے وہی ہمت بھی دیتا ہے اسی نے دی۔۔سوچ رہی ہوں شاید اس وقت میرا نامہ اعمال کھولا پڑا اللہ کے سامنے ہو ۔۔۔۔میرے روزے ۔۔۔۔آہ میرے روزے۔۔۔۔۔اللہ درگزر کر دینا ساری کمیوں و کوتاہیوں کو۔۔۔
آسمان پر تقریب کا انعقاد ہو گیا ہوگا۔۔مہمان خصوصی اللہ رب العزت جلوہ فرماں ہوں گے۔۔انعامات کا میز سج گیا ہوگا۔۔۔
اللہ دیکھ رہا ہوگا۔۔۔فرشتے بتا رہے ہوں گے۔۔۔سب کے اعمال کے رجسٹر اوپر تلے پڑے ہوں گے۔۔کون پاس ہوگا کون فیل ہوگا فیصلہ ہو رہا ہوگا۔۔۔کس کو کتنے نمبر ملے۔۔۔کون ایک دو نمبروں سے رہ گیا۔۔۔۔کون درجہ اول پر آیا کون درجہ دوم اور کون درجہ سوم پر آیا۔۔۔۔کس کو جنت کی سند ملی کس کو باب الریان میں داخل ہونے کی شیلڈ ملی۔۔۔کس کو حسن کارکردگی کا ایوارڈ ملا۔۔۔۔۔اور کون ان سب پر سبقت لے گیا۔۔۔
دل ڈر رہا ہے پریشان ہے ۔۔۔۔ناجانے کیا معاملہ ہو رہا ہوگا۔۔۔کیسے پتہ چلے گا کب پتہ چلے گا۔۔۔۔ہمارا رزلٹ(نتیجہ) کب سنایا جائے گا۔۔۔کتنی بے چینی ہے۔۔۔جب روزوں پر نظر ڈالوں تو کچھ ایسا نہیں ملتا جو نیا ہو یا بہتر ہو۔۔۔بہتر کی سعی میں ہی وقت گزر گیا۔۔۔ہوش آیاتو اعلان ہو رہا تھا " کل عید ہے" خوش و خرم سب کے محبت بھرے میسجز (پیغامات) موصول ہورہے تھے۔۔سب بے تاب تھے کہ پہلے میرا پیغام جائے۔۔۔میں وہ تھی جو سب سے پہلے سب کو موبائل پر پیغام بھیجتی تھی آج مجھے کسی کا پیغام آنا بھی اچھا نہیں لگ رہا۔۔بس دل چاہ رہا آسمان پھٹے اور میرا رزلٹ(نتیجہ) میرے ہاتھ میں آجائے۔۔۔
اللہ روزے تو ایسے نہ تھے مگر تو بہت عفو و کریم ہے سب زیادتیوں سے درگزر کر جانا۔۔۔
تمام امت مسلمہ کو معاف کردینا۔۔وہ لوگ جنہوں نے گرمی میں تیرے لیے روزے رکھے بھوک پیاس برداشت کی،غصہ، لڑائی و جھگڑے سے پرہیز کیا،،نمازیں پڑھیں قرآن کو سمجھا اور عمل میں تبدیلی لائے وہ جو تیرے دین کی سربلندی کے لیے سخت ترین روزوں میں بھی جدوجہد کرتے رہے وہ جہنوں نے سحریاں بنائیں افطاریاں کروائیں وہ جنہوں نے شب داریاں کیں اور اعتکاف بیٹھے اور وہ جنہوں نے انفاق کیا ۔۔۔۔یا اللہ یہ سب تیرے بندے تیرے لیے تیری محبت تیرے عشق میں کرتے رہے۔۔۔
یاللہ سب کو معاف کردینا ۔۔۔سب کو معاف کردینا۔۔۔۔


Post A Comment:
1 comment so far add yours
Mashallah, Allah hamwn aj k roz tamam rozon ki mazdoori ata farmae or hamare oper apna khasoosi raham kre. EID MUBARIK.
ایک تبصرہ شائع کریں