اس نام نے کئی لوگ کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ یہ کیا میں نے عجیب و غریب نام رکھا ہے۔میری کچھ سہیلیاں اور کزنز جب میرے ذاتی نام سے فیس بک آئی ڈی تلاش کرتی ہیں تو تھک ہار کر میسج کرتی ہیں کہ یار تمہارا فیس بک نہیں مل رہا۔ پھر میں مزے سے ہنستی ہوں کہ درمکنون ڈالو تو نکل آئے گا۔پھر ایک اور سیاپا ان کو یہ بھی لگتا کہ نام اردو میں ہے اب کیسے لکھا جائے تو پھر میں انکو اپنی پروفائل کا لنک دیتی ہوں۔۔پھر مزید سیاپا کہ فرینڈ ریکوسٹ ہی آف 😄۔۔ پھر ان کا آئی ڈی لے کر ریکوسٹ میری طرف سے جاتی ہے۔ اس "درمکنون" نے بہت سو کو پریشان کررکھا ہے۔ اب اگلا مرحلہ یہ آتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔پہلے تو کسی کو یہ سمجھ نہیں آتی یہ "دَر" ہے یا "دُر" تو بتاتی ہوں کہ یہ "دُرمکنون " ہے پھر جب مطلب بتاؤں تو یہ موتی اس سمندر والے موتی کو تصور کرتے ہیں جب کہ اہل علم جانتے ہونگے کہ اس سمندر کے موتی سے اللہ تعالی نے " عورت" کو تشبیہ دی ہے۔لہذا "درمکنون " کا اصل مطلب " عورت " ہے جیسے نبی محترم ؐ نے ایک جگہ پر "عورت" کو " آبگینے" کہا ہے ایسے ہی قرآن نے جہاں جنت کی عورتوں کا ذکر کیا ہے وہاں " لولو مکنون " سے متعارف کرایا ہے ‌یعنی "چھپا ہوا موتی" !!! عورت چھپا ہوا موتی ہی ہے۔ زیب و زینت ،رنگ و روپ، آرائش و زیبائش کو دنیا کے نامحرموں سے چھپا کر رکھنا بالکل جیسے سیپ میں موتی چھپا ہوتا ہے، عورت کو ایسے ہی اپنی نمائش سے چھپانا ہوتا ہے۔مگر بعض لوگ اس چھپانے کے مطلب کو انتہا پسندی تک لے جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں عورت کو اپنا قد کاٹھ،بولنا،چلنا،کسی سے مخاطب ہونا بھی سب چھپانےکے زمرے میں آتا ہے۔جبکہ ایسا نہیں ہے۔ضرورتا عورت کسی نامحرم سے بات کر سکتی ہے۔ پردے میں ضرورتا باہر نکل سکتی ہےاب پردے میں مزید اپنے قد کو نہیں چھپا سکتی،بازار میں سوداسلف خریدتے اپنی آواز نہیں دبا سکتی۔ مجبوری میں نامحرم سے واسطہ پڑنے پر گونگی بہری نہیں ہوسکتی۔۔ اصل درمکنون اس کی زیب و زینت،اس کی زیبائش اس کا سنگھار اور کے جسم کے متاثر کن اعضا۶ اور اس کا شوخ و چنچل پن اس کی ہنسی اس کے بجتے زیورات حتی کہ ہر وہ چیز جو نامحرم کو متاثر کرے وہ مکنون ہونی چاہیے۔۔ اب پردے کے اندر بھی اگر کوئی اس کے قد سے متاثر ہوجائے تو اس کا قصور نہیں قصور دیکھنے والے کے انداز کا ہے۔۔۔
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours