دل کر رہا ہے میرے پاس طلسمی چراغ ہو اس کو رگڑوں اور ایک جن کا ظہور ہو پھر وہ مجھ سے پوچھے "کیا حکم ہے میرے آقا" پھر بغیر کسی رکاوٹ کے فرمائیشیں کرنا شروع کردوں اور کہوں!!!!
دل کر رہا ہے میں گلابی جالی دار،پھولا ہوا جس کے بازو بھی پھول والے ہوں  فراک جو تایا ابو دوبئی سے لائے تھے پہن کے جھوموں پھر جب امی اس کو واپس سنبھال دیں تو بار بار جاکے بکس میں دیکھوں اور دل ہی دل میں رشک محسوس کروں
 دل کر رہاہے صبح جب امی اسکول کے لیے جگائیں تو پیٹ درد کا بہانہ کرکے چھٹی مارلوں اور واپس جلدی سے بستر میں گھس کر منہ چھپا کے ہنسوں اور سوجاؤں
دل کر رہا ہے جمعرات کی شام ہو ہم سب اپنی بند گلی میں کھیلیں "نیلم پری،ایکسپریس،برف پانی،ریس" اور بوبی کی امی باہر نکل کر کہیں" بچو بوبی پڑھ رہاہے شور نہ کریں۔ آنٹی کل جمعہ ہے چھٹی ہے آپ بوبی کو بھی بھیج دیں تھوڑی دیر ہمارے ساتھ کھیلے پر جب آنٹی نہ مانیں تو دل ہی دل میں کہنا "زیادہ پڑھاکو بنتا ہےاور پھر ڈرڈرکے آہستہ آواز میں کھیلیں
دل کر رہا ہے ہم عشا۶ کے وقت گلی میں کھیل رہے ہوں دور سے ابو کی گاڑی کی آواز سنکر جلدی سے گھر میں گھس جائیں اور ایسا تاثر دیں کہ ہم تو اس وقت گلی میں نہیں کھیل رہے تھے
دل کر رہا ہے گلی میں ریڑھی والے دہی بھلے آئیں اور پانچ روپے کا پیکٹ بناکر کھاؤں
دل کر رہا ہے سخت گرمی ہو سکول سے چھٹی پر چوک میں محسن علی دودھ والی قلفی لگاکے کھڑا ہو اور میں بس حسرت سے پاس سے گزر جاؤں کیونکہ بریک ٹائم سارے پیسے خرچ کر لیے تھے
دل کر رہا ہے پانچ روپے والی پیپسی پیوں اور بڑوں کی دیکھا دیکھی بے نظیر حکومت کو کوسوں کے تین روپے کی پیپسی پانچ کی کرکے کتنی مہنگی کردی دل کر رہا ہے دس روپے والا برگر کھاؤں
دل کر رہاہے عید کا دن ہو اور سب سہیلیوں کو بلا کے سویاں کھلاؤں اور عیدی گنواؤں
دل کررہا ہے ان بچوں کو ماروں جو ہماری حویلی سے شہتوت کے درخت سے شہتوت توڑیں
 دل کر رہا ہے محرم کی نو دس ہو اور تایا ابو کی چھت پر چڑھ کر آتے جلوس کو دیکھوں اور ساتھ ڈروں بھی کے کہیں یہ چھت پر نہ چڑھ آئیں
دل کر رہاہے ویکینڈ ہو ابو کے ساتھ سب شیخوپورہ جائیں پہلے ابو امی کو مین بازار کے کباب کھلائیں پھر راحت بیکرز سے ہمیں خوب چیزیں لے کے دیں ساتھ ملک شیک پلائیں 
دل کر رہاہے جھبراں گاؤں جاؤں اور پھپھو کی سب سے اوپر والی چھت پر جاکر پورے گاؤں کو دیکھوں اور دل خوش کروں
 دل کر رہا ہے ہاؤسنگ کالونی پھپھو کے گھرجاؤں چھت پر پڑے سویمنگ پول میں بیٹھ کر پاؤں بگھوؤں تو کبھی کزن کے ساتھ کمپنی پارک جاؤں اور واک کروں تو کبھی گھروں کے باہر بنے کیاری سے گلاب کے پھول توڑوں
دل کررہاہے سب بحرین سے آئیں اور ان کے ساتھ خوب ہلاگلا کروں اور bear والے کارٹون کی پوری فلم دیکھوں
 دل کررہاہے بچپن لوٹ آئے اور خوب مستی کروں ۔۔
 دل کررہاہے۔۔۔۔۔۔

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours