یہ بات طے شدہ ہے اللہ نے اپنے دین کو خود قائم کرنا ہے چاہے وہ کوئی گھر ہوگلی ہو محلہ ہو شہر ہو ضلع ہو صوبہ ہو یا ملک یا ساری دنیا ہو۔۔۔وہ اپنے دین کا کام جس سے چاہے لے کر رہتا ہے اور دین قائم کرکے رہتا ہےاور کرکے رہے گا ہم انسان تو بس ایک ذریعہ ہیں دین کے قیام کے لیے ہماری سعی ہمارے لیے ہی فائدہ مند ہےاور اس میں ہمارے لیے ہی آزمائش ہے۔کہ کون اس کے دین کے قیام کے لیےکوشش کرتا ہے اور کتنی کرتا ہے
مجھے یاد ہے 2014 میں جب مجھے آگاہ کیا گیا کے جماعت کا نیا ادارہ فہم القرآن سنٹر کی ذمہ داری تمہارے سپرد کی جائے گی۔تب وہ ادارہ اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں تھامجھے یہ سنکر تعجب ہوا
کہ مجھے جماعت والوں نے اس قابل کیسے سمجھ لیا کہ میں اتنے بڑے ادارے اور جلالپورکے مرکزکو چلانے کی اہل ہوسکتی ہوں بہرحال شوری کا فیصلہ ہوچکا تھا اور میرا نام تجویز کیا جاچکا تھا۔
مشاورت کے بعد مجھے ذمہ داری دے دی گئی اور چیدہ چیدہ کاموں کی فہرست مجھے تھما دی گئی اس سے پہلے تک میں صرف گھر کو چلانے کا ہی طریقہ جانتی تھی یہ کام میرے لیے جہاں نیا تھا وہاں سب سے جدا بھی تھا۔میں گناہ گار بندی آج بھی اس کام کو خود کے قابل نہیں سمجھتی۔پر جیسا کہ میں نے کہا اللہ نے اپنے دین کوخود ہی قائم کرنا ہوتا ہےہم بس ذرائع ہیں۔لہذا مئی 2014 میں مجھے ادارے کی کنجیاں تھما دی گئیں اور یوں شہر کا ادارہ میرے حوالے
کردیا گیا۔میں نے اس کو کھولا اور جائزہ لیا۔بیس منٹ بن چکی تھی بس دروازے لگنا باقی تھے کچھ دن بعد وہ بھی لگ گئے
تین کمروں اور ایک ہال اور کچن اور ایک باتھ روم پر مشتمل فرش و دیواروں تک بڑی بڑی ٹائلز، ہر دیوار اور چھت پر بلب اور پنکھوں سے آراستہ خوبصورت ادارہ تیار تھا اب اس کو سجانے سنوارنے اور آبادکرنے کی باری میرے حصے میں آئی تھی۔نئے علاقے نئی جگہ نیامحلہ نئے لوگوں میں اکیلے اس کام کو شروع کرنا مجھے کسی چوٹی کو سر کرنے کے برابر لگ رہا تھا.
نظم سے فون پر ہی رابطہ رہتا تھا جو ہدایات ملتیں خود اکیلے ہی ادا کرنی ہوتی تب نہ کوئی ساتھی معلمہ تھی نہ ملازمہ نہ چوکیدار نہ ہی کوئی طالبات،اب مرحلہ سامان شفٹ کرنے کا تھا جس میں ایک عدد قالین،،ریلیں،ایک عدد سیف الماری،چند پلاسٹک کی کرسیاں اور معمولی سا سامان کچن کا جو نئی تعمیر سے پہلے پرانے ادارے میں استعمال ہوتا تھاخواہش تو تھی کہ سب نیاسامان لگایا جائے پر بجٹ کم تھا لہزا اسی پراکتفا کیاگیا
لہذا پرانے سامان کونئے ادارے میں منتقل کردیا۔اب سامان آچکا تھا اور میں اکیلی اب کیسے قالین بچھاتی اور کیسے الماری لگاتی یہ کام تو کسی کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔علاقہ نیا تھا لوگ نئے تھے اور کام کا تجربہ بھی نہیں تھا سنٹر کے سامنے ایک کارکن آنٹی کا گھر تھا لہذا ان کو اور ان کی بیٹیوں سے خدمت طلب کی انہوں نے خوشی خوشی میرے ساتھ تعاون کیااور یوں دفتر میں قالین اور سیف الماری لگادی گئی۔ہال میں ایک عدد چھوٹا قالین بچھا کر چند پلاسٹک کی کرسیاں لگادیں جو اتنے بڑے ہال میں ایک کونے کو بھرنے کے برابر معلوم ہورہی تھیں۔ذہن میں گھروں جیسے ہال
کی جھلک تھی دل کرتا تھا فل قالین ہو جدید قسم کا صوفہ سیٹ ہو شیشے کا میز ہو اور ساؤنڈ سسٹم لگا ہو اور یہ گھر کے ہال سے بھی زیادہ قیمتی اور نمایاں لگے۔مگر پھر بجٹ دیکھ کر خاموش ہوگئی اور اسی بات سے دل بہلاتی رہی کہ اللہ پیسے دے گا تو ایک دن یہ ادارہ گھرکی طرح سج جائے گا اور ایک چیز کی بھی کمی نہ ہوگی کلاس رومز میں دو دو لکڑی کی ریلیں اور چٹائی بچھا کر کلاس کی شکل دے دی ۔دل تو وہاں بھی للچایا کہ قالین ریلیں زیادہ ہوں اور بورڈلگا ہو ایک ایک الماری بھی موجود ہو جس میں کتابیں اور قرآن رکھا جائےلہذا یہاں پر بھی مقام خاموشی کا تھا۔کچن میں چولہا تو تھا پرگیس نہ تھی اور نہ گیس والا سلنڈر تھا۔چند گلاس جگ کچھ چائے والے کپ اور6 پیس والا ڈنر سیٹ کے ساتھ کچن بھی سج گیا تھا۔واش روم کے لیے تولیہ اور صابن بھی رکھا جا چکا تھا
جی تو یہ ادارہ اپنی مخصوص اشیاء کے ساتھ تیار تھا اور کلاسز کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جاچکا تھا۔کوئی ساتھی موجود نہ ہونے کی وجہ سے بیک وقت میں ادارے کی ملازمہ ،معلمہ ،چوکیدارنی اور بطورپرنسپل اپنے فرائض ادا کرتی رہی
اب مرحلہ ایک عدد معلمہ رکھنے کا تھا کچھ ماہ بعد ایک رکن جماعت کو سنٹر کی معلمہ کے طور پر مامور کیاپھر ملازمہ بھی رکھ لی اور یوں اب میرے پاس چوکیدارنی اور پرنسپل کی ذمہ داری رہ گئی سوچنے سے لگتا تھا یہ ادارہ خود چل پڑے گا پر میں نے کافی مسائل کا سامنا کیا۔معلمہ اپنی گھریلو مصروفیت کہ وجہ
سے زیادہ وقت نہ دیتی تھی۔اور جزوی وقت کے بعد سنٹر سے رخصت ہوجاتی تھی۔پر مجھے ایک عدد ایسے فرد کی
تلاش تھی جس کے ساتھ ملکر میں ادارے کے تمام مسائل حل کرسکوں مشورے کرسکوں اور میرے ساتھ کل وقتی موجود رہے۔
بعض اوقات اس سنسان علاقے میں شام تک اکیلے بیٹھے رہنا پڑتا ۔کیونکہ ادارے کا وقت دن دو بجے سے شام تک تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ قریب ہی بارہ سال پرانا جماعت کا جامعہ آباد تھا جو جماعت کا کسی حد تک مرکز بھی تھا لہذا سنٹر کا وقت دوسرے پہر کردیا تاکہ دونوں اداروں کی کارکردگی و حاضری متاثر نہ ہوگرمی میں حبس کو برداشت کیا کیونکہ اوپر کا پورشن نہ بننے کی وجہ سے نیچے بیس مینٹ کافی آگ برساتی تھی
مصنوعی بجلی کا بھی انتظام نہ تھا نہ ہی ٹھنڈےپانی کا انتظام تھا ہمسایوں کے فریج میں دو تین عدد بوتلیں ادارے کے نام کی
رکھ لی تھیں اور وہی سے ٹھنڈاپانی آجاتا تھا۔ایک سال تک معلمہ کی کمی چوکیدار کے نہ ہونے کے مسائل اور داخلوں کے مسائل کا شدید سامنا رہا ادارہ نہ چلنے کی وجہ سے نظم سے ڈانٹ پڑتی رہی حتی کہ ادارہ بند کرنے کے مشورے بھی ہونے لگے۔جبکہ ہر کوئی جانتا تھا کہ
کسی بھی ادارے کو چلانے اور آباد کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔اور جب اداہ بالکل نئی آبادی میں ہو اور آس پاس فرقہ بازیاں عروج پر ہوں اور صحیح دین کی جانب لوگوں کی رہنمائی کرنا ان کی ذہن سازی کرنا اور گھروں میں جاجاکر دعوت دینا ۔محلے والوں کے ساتھ تعلقات بنانا،ادارے کی پہچان بنانے کے لیے سالہاسال درکار ہوتے ہیں اور یہ اکیلے بندے کا کام تو ہوتا نہیں یہ ٹیم ورک ہوتا ہے جس سے ادارے اپنی ساکھ بناتے ہیں اور اس کی دعوت دور دورتک پہنچتی ہے بجٹ کا نہ ہونا ایک الگ مسئلہ تھا ادارے کی تشہیر کے لیے پیسہ بھی چاہیے ہوتا ہے فنڈ ریزنگ کرنی پڑتی ہےکافی مسائل حل کرنے کے بعد ادارہ آباد ہوتا ہے پھر ادارہ فہم القرآن سنٹر صوبائی نظم کے زیر نگرانی آیا۔ماہانہ پلاننگ موصول ہوئی کام کا طریقہ کار بتایا گیا۔ورکشاپس لیں
کورسز کیے،دعوت کے طریقے کار کو سمجھا یوں ادارہ ایک باقاعدہ پالیسی کے تحت کام کرنے لگا۔ایک سال بعد ادارے میں ایک نیک و شریف اور محنتی اور ایمان دار لڑکی کو اللہ نے معلمہ کے روپ میں بھیجا اور میرا مددگار بنا کر مجھے حوصلہ دیا۔ناظرہ کلاس اس کو تھمائی جو معلمہ نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہورہی تھی
اور آہستہ آہستہ بچے ادارہ چھوڑ کر جارہے تھے۔تو اس وقت میں اللہ نے بطور انعام بھیجا۔
اس کی انتھک محنت،توجہ اور لگن سے ناظرہ کلاس دن بدن ترقی کرنے لگی کہ ہم نے ساتھ ساتھ شعبہ اطفال کے تحت تربیتی نصاب بھی شروع کرلیا جس سے متاثر ہوکر اہل علاقہ اپنے بچوں کو آنکھیں بند کرکے ہمارے پاس چھوڑ جاتے۔اب اس وقت ناظرہ کلاس کے دو سیکشن ہوچکے ہیں لانگ کورس کا تیسرا بیج چل رہا ہے۔شارٹ کورسز اب تک 15 سے زیادہ ہوچکے۔ادارے سے باہر شہر کے بڑے بڑے اسکولز میں ہمارے سنٹر کی جانب سے معلمات کے لیے کورسز کروائے۔گھروں میں بھی کورس کروائے گئے۔سالانہ تقریبات سےادارے کی کافی دعوت پھیلی۔نظم کی اخلاقی مددساتھ ساتھ تھی۔جس سےکافی حوصلہ ملتا تھا۔اللہ کا فضل سہارا بن کر رات کو بھی ساتھ رہتا۔دیکھتے ہی دیکھتے اہل علاقہ سے جان پہچان بڑھ گئی کہ سب مجھ سے ذاتی طور پر بھی واقف ہوگئے۔دور دور کے علاقوں تک اس کی دعوت پہنچی۔کیونکہ یہ ادارہ شہر بھر میں اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہے جس میں جدید طرز پر الیکٹرانک ذرائع سے دین کی تعلیم دی جاتی ہے ایسا ادارہ شہر بھر میں کہیں نہیں
اب علاقے میں ادارے کی ایک مخصوص پہچان بڑھ چکی ہے۔کئی لوگ فرقہ پرستی کو چھوڑ کر ہمارے ادارے کی طرف رجوع کر رہے ہیں
ہمارے لیے باعث تسکین بات تب ہوتی ہے جب طالبات کی مائیں آکر یہ کہتی ہیں کہ ہماری بیٹیاں اب پہلے جیسی نہیں رہیں۔
ہمیں سکھاتی ہیں ایسے کریں ویسے کریں یہ نہ کریں وہ نہ کریں۔۔۔تب خوشی سے میری آنکھوں کی چمک اور دل کی تیز دھڑکن بتاتی ہے تمہاری محنت رنگ لا رہی ہے۔ آج وہ ادارہ بالکل ایک گھر کی طرح سج گیا ہے کہاں بس چاردیواری تھی اور آج وہ چار دیواریں بھی چھپ گئی ان کے اوپر تزین و آرائش نے چار چاند لگا دئیے۔دفتر میں ضرورت کا ہر سامان موجود ہے۔لائبریری نے سنٹر میں مزید رونق بخش دی ہے ۔حجاب النسا۶ اور بوتیک بھی موجود ہیں۔کچن اتنا بھر چکا کے کچھ برتن نیچے رکھنے پڑتے ہیں۔کلاسز میں کتابوں والی الماری موجود ہے جو کتب سے بھری پڑی ہے۔۔ہال بھی تقریبا میری مرضی کا سج گیا ہے ۔سولر سسٹم اور اے سی نے کافی آرام دے دیا۔واٹر کولر نے محتاجی ختم کردی ہے۔گیس کنکشن لگنے کو ہے اور سلنڈر نے اس کمی کو پورا کردیا۔داخلوں میں اضافہ ہوا اور کئی لوگ جماعت کے حامی بنے۔
آج ادارے کو تین سال ہوگئے ہیں۔تین سال کا یہ عرصہ پلک جھپکتے جیسے گزر گیا۔جو مشکلات و مسائل آئے سنٹر کو ہرابھرا دیکھ کر لگتا جیسے آئے ہی نہیں۔یہ سب میرے اللہ کا کرم و مدد کا نتیجہ ہے آج سابقہ طالبات کو کسی کام کے لیے بلاؤں تو دوڑتی آتی ہیں اللہ نے بہت سارے سہارے دے دئیے۔اس اللہ کے گھر سے اسطرح پیار ہے جیسے یہ میری جائے پیدائش ہو۔اس قدر مانوسیت کبھی سکولو کالج سے نہ ہوئی جتنی اس ادارے سے ہے۔۔اس کو ایک بچے کی طرح بڑا کیا ہے حتی کہ شدید بیماری اور گھریلو مجبوری کی بنا پر بھی کبھی چھٹی نہ کی۔کہ پیچھے دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں۔۔
آج تین سالہ دور کو یاد کروں تو بس اللہ کا شکر ہی ادا کرتی ہوں کہ یہ سب اللہ کی مدد سے ممکن ہوا۔اس کا فضل دین کو اسی نے قائم کرنا ہم نے تو بس کوشش کرنی۔
اللہ ہمارے اس ادارے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی ادا کرے۔ اس کی پہچان اتنی بڑھ جائے کہ شہر کی سب سواریوں کو جب کہا جائے سنٹر جانا ہے تو وہ پتہ نہ پوچھیں بس سنٹر پہنچادیں اگرچہ کہ کئی سواریاں جان چکی ہیں مگر میری خواہش ہے شہر کے چپے چپے تک اس کی پہچان بنے


Post A Comment:
1 comment so far add yours
آمین
ایک تبصرہ شائع کریں