جوبچیاں لڑائی جھگڑے والے ماحول میں پلی بڑھی نہیں ہیں اگلے گھرمیں یہ ماحول ملے تو یقینا شخصیت پر گہرااثر پڑتا ہےاگر وہ ان جھگڑوں کو ختم کرنے کی کوشش کرے توہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرنےکاحکم دیاجاتا ہے چپ رہنے کا مشورہ دیا جائے تو گویا ایسے فسادی ماحول کوقبول کرنے کے برابر ہےاس کو صبر کا درس دےدےکرہم اس لڑکی کو اس فتنے والے ماحول کا عادی بنارہے ہوتے ہیں اور پکا کررہے ہوتے ہیں کل کو ضرورت پڑے تو تم بھی یہی تماشے لگانا نہیں بلکہ جو لڑکیاں ایسے ماحول میں گھٹ گھٹ کر جی رہی ہوتی ہیں ان کی مثالیں دے دے کرہم ان کو بہادر نہیں بنارہے ہوتے بلکہ ذہنی مریض بنارہے ہوتے ہیں۔دیکھو فلاں کی ساس بھی اسکے ساتھ یہی کچھ کرتی ہے فلاں کی نند اسکو بہت گالیاں نکالتی ہے۔۔کیوں نکالتی ہےظاہری بات ہے جب پہلی گالی ملنے پروہ خاموش رہی تو اگلے کو اور نکالنےکاموقع مل گیا۔ایک کے بعددوسری پھر تیسری چوتھی ایک دن دو دن۔۔ برادشت سیکھائی تو دن سے مہینوں گالیان پڑتی رہیں ۔یہی تمہارا گھر ہے بہو کو ہی کمپرومائزکرنا پڑتا گالیاں مہینوں سے سالوں پر چلے گئیں بہو کے بچے بڑے ہوگئے پرسسرالوں والوں کی گالیاں ختم نہ ہوئیں۔اسے گونگابناکر اسکے اندر پلنے والے لاوےکو ہم بڑھاتے جاتے ہیں کہ ایک دن ہی پھاڑنا ایسے کہ اسکی چھینٹیں دوسرے شہر جاپڑیں اور سب کو گندہ کریں گالی دے تو خاموش ہوجانا یعنی اس زیادتی کرنے والے کو بڑھاوا دیا جارہا ہے حدیث کےمطابق ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے میں ظالم کو تو بھول جاتے بس مظلوم کی مدد کی جاتی۔ممکن ہے پہلی بار ہی فتنے کو روک دینے پر دوبارہ ایسی نوبت نہ آئے۔مگریہ اصول سمجھ نہیں آتا آخر کیونکر زبان کو سی کر اگلوں کے منہ پھاڑنےکے کھلے مواقع دئیے جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتی کہ بدتمیزی کی جائے بدتمیزی اور خود اعتمادی میں فرق ہوتا ہےلڑکی کاآگے سے جواب دےدینا گویا نہایت جاہل ان پڑھ بدلحاظ بےشرم ماں نے تمیز نہں سیکھائی کالیبل لگادیاجاتا ہےاور سسرال والوں کو تو یہ سب کام کرنے کاجیسےآسمان سے حکم اترا ہوتا ہےلڑکی بچاری کیا بولے بسا اوقات تو اسکواپناموقف پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی انسان سمجھ کر اسکو بیاہ کرلایا جاتا ہے مگراگلے دن ہی اس کو فرشتہ بنادیا جاتا ہے کہ اس سے کوئی غلطی صادر نہیں ہوسکتی ۔کسی کو اسکے جذبات کا خیال نہیں مگر اسکو ہرایک کے جذبات کا خیال رکھنا فرض ہےطعنے یہی دئیےجاتے ہیں پرانے وقتوں میں تو عورتیں سہہ جاتی تھیں۔۔ آجکل کی لڑکیاں اپنا مقام خود گراتی ہیں۔۔جنہوں نے چپ رہ کر زندگیاں گزاری دیکھا انکو بھی کہ آج کیا مقام ملا ہوا۔۔ سو میں سے دو تین ہی ہونگیں جن کو چپ رہ کر عزتیں ملیں باقی سہہ جانا یا نہ ۔۔ایک برابر۔۔ جس کےساتھ زیادتی ہورہی ہو اسکو خاموشی کا درس دینا اور ظالم کےآگے جھکائے رکھنا اسکےساتھ ظلم ہے۔ اورظالم کی جرات بڑھانا ہے یوں گھروں کے فساد ختم نہیں ہوتے بڑھتے جاتے ہیں آج وہ لڑکی کل کو اسکے بچوں کے ساتھ یہ سب ہوگا۔۔

‏حضرت ابراہیم نخعیؒ نے فرمایا کہ سلف صالحین یہ پسند نہ کرتے تھے کہ مومنین اپنے آپ کو فسّاق فجّار کے سامنے ذلیل کریں اور ان کی جرأت بڑھ جائے۔ اس لئے جہاں یہ خطرہ ہو کہ معاف کرنے سے فساق فجار کی جرأت بڑھے گی، وہ اور نیک لوگوں کو ستائیں گے وہاں انتقام لے لینا بہتر ہوگا۔ اور معافی کا افضل ہونا اس صورت میں ہے جب کہ ظلم کرنے والااپنے فعل پر نادم ہو اور ظلم پر اس کی جرأت بڑھ جانے کا خطرہ نہ ہو۔ (معارف القرآن:ج؍۷۔ص؍۷۰۷)
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours