کہتے ہیں بچہ ہاتھ سے نکل گیا۔کیسے نکلا؟ کیوں نکلا؟کس نے نکالا؟ اور کب یہ سانحہ ہوگیا۔۔ان سب سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے بجائے ہم بچے کو اپنے طریقے سے قابو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمیشہ سے ایساہوتارہاہےکہ مسئلے کا حل تلاش کیاجاتا ہے پھر مسئلہ حل ہوتا ہے۔۔ جس ہاتھ میں جوتی،جھاڑو،ڈنڈا ہوگا جس زبان سے زہر بھرے تیر طعن ،گالی ،بےعزتی کے نکلیں گے۔جہاں پر ہروقت والدین اپنی مرضی تھوپیں گے تو وہ بچہ ہاتھ سےہی نکلے گانا۔جب اللہ بھی اپنی اہم بنیادی ،دین کا ستون قبر و حشر کاپہلا سوال نماز کے متعلق دس سال تک مار کا حکم نہیں دیتا تو والدین کیوں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر بچے کو ماریں تم چھت پر کیوں گئے۔باہر کیوں گئے۔اس کمرے میں کیوں بیٹھے۔ادھر کیوں سوئے۔زیادہ بولنے پر،زیادہ ہنسنے پر،زیادہ کھانے پر،بےفضول باتوں پر جب مارمارکربچے کو لال کردیا جائے تو بچہ کیسے نہ ہاتھ سے نکلے۔۔ جب مارنے کا حکم آیا تب چشم پوشی اختیار کرلی۔۔ہائے رے پیاری ماؤں پیارے باپوں!!! ۔بچے کو کھلونانہ سمجھو۔یہ ایک مکمل وجود ہےدل و دماغ اور احساسات رکھتا ہے۔خواہشات مرضیاں پسند ناپسند رکھتا ہے۔جب ہر بےمعنی بات پر اپنی مرضی تھوپو گےتو بڑ ہوکر جب کچھ معاملات میں بڑوں کےمشورے درکار ہوتے ہیں تب وہ آسانی سے کہہ سکتاکہ ساری عمر آپکی سنی اب میری بھی مان لیں۔لہذا۔۔ بلوغت تک انکی ہرچھوٹی بڑی بات مانیں۔۔ اگر وہ نہیں نہانا چاہتا اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بناکر گن پوائنٹ پر بات منوانے کی ضرورت نہیں۔۔ یہ لایعنی باتیں ہیں۔کئی بار حکمت کےساتھ اپنی بات منوانی پڑتی ہر وقت سوٹے(چھڑی یعنی آپکےدومضبوط ہاتھ)سے بات نہیں منوائی جاسکتی۔بچہ ضدی نہیں ہوتا ضدی آپ ہوتے ہیں۔نوے فیصد باتیں والدین اپنی ضد سے منواتے ہیں۔اور الزام پھر بچوں پر کہ ضدی ہوگیا۔بچے کو جتنادبائیں گےنایہ اتنا ہی ہاتھ سے نکلے گا۔جیسے اسپرنگ کو دبایا جائےتوجب اٹھتا ہےتو ایک دم زور اور طاقت سے ۔۔یہ مت سمجھیں کہ ساری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اسکےباوجود بدتمیزہوتےجارہے۔یاد رکھیے آج تک کوئی بچہ ضرورتیں پوری ہونےسےنہیں سدھرا۔۔نرم لہجہ،پیار،عزت اور توجہ یہ وہ عناصر ہیں جو بچےکی شخصیت کوسنوارتے ہیں۔آپ انکو ڈانٹ ڈپٹ کر مار پیٹ سے سونےکانوالہ بھی کھلائیں گی نا تو بچہ نہیں سدھرےگا۔۔ دس روپے بھی یہ کہہ کردیں کہ اب مجھے اپنی شکل نہ دیکھانا تو بچہ ہاتھ سے نہ نکلے توکیاکرے۔۔ پیارے والدین خصوصا ماؤں جنہوں نے بچےکی تربیت کرنی ہوتی آپ چنےکابیچ بؤؤ گے تو چنے کی فصل ہی اگے گی اس پر کبھی گندم نہیں اگ سکتی۔۔ نبی محترمؐ کے اخلاق اپناؤ جنہوں نے مکہ مدینہ کے سب بچوں کی تربیت کی مگر ساری زندگی انکو مارنا تودور کی بات ڈانٹا تک نہیں۔۔۔
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours