👈آخر کیاوجہ سے ہم نے روزے کو اتنا سخت کیوں بنادیا ہے۔ایک دوسرے کےذہنوں میں روزے کا ڈراؤنا سا امیج ڈال دیتے ہیں خاص طور پر بچوں کےذہن میں۔۔۔

زیادہ کام ناکرنا کہ روزہ ہے

سوتے رہنا کہ روزہ ہے

زیادہ نا چلنا کہ روزہ ہے

گرمی میں نانکلنا کہ روزہ ہے

دفتروں میں اوقات کار گھٹادینا کہ روزہ ہے

اسکولوں میں جلدی چھٹی کردینا کہ روزہ ہے

کوئی زیادہ کام لےلےتو باتیں بنانا کہ روزے میں کام کرواتے ہیں

بچوں کو روزہ نا رکھوانا کہ اسکول جانا ہے 

یا اسکول سے چھٹی کروادینا کہ روزہ ہے

سفرمیں روزہ چھوڑ دینا

گھرمیں کوئی بھاری کام کرنا ہےتو روزہ چھوڑ دینا

کیا یہ سب کام ناکرنے سے روزہ سلامت رہتاہے؟کیاروزہ صرف پیٹ کا ہے کہ یہ سب کام کرنے سے روزہ محسوس ہوگا بھوک پیاس کی حاجت ہوگی توخود کو جتنا آرام دےسکتے دینا چاہیے۔۔ روزہ تو مشقت میں صبرسیکھاتاہےاگر آپکا بچہ روزہ رکھ کر پیدل سکول سے واپس آئے تو پریشان ہونےکی ضرورت نہیں بلکہ اسکو سیکھائیں کہ یہی توروزےمیں امتحان ہےکہ مشکل یا سخت کام آجائےتوصبر سے کیسے کرنا ہے۔یہاں ہمارا مزاج ہی الٹاہوجاتاہے روزہ ہے روزہ لگےگاکہہ کہہ کر بچوں کےذہن میں روزے کا ایک ڈراؤنا امیج بٹھاکر مقصد سے فراموش کردیاجاتا ہے۔مگر اصل روح یہی تو ہے روزے میں سخت کام کرنا پڑےتوکرو تاکہ برداشت پیداہو ناکہ چھوڑ دیاجایے کہ روزہ ہے۔۔بچوں کوسیکھائیں کہ ان کاموں سے روزے پربالکل اثر نہیں پڑتا ہاں روزہ تب متاثرہوگاجب آپ لڑوگے جھگڑوگےجھوٹ بولو گےغصہ کروگےنمازنہیں پڑھوگے،سوتےرہوگے،گھرکےکام نہیں کروگے۔ہروقت موبائل پرلایعنی لغویات میں پڑےرہوگے۔۔۔آنکھ ،کان،زبان،دل،دماغ ان کا بھی تو روزہ ہوتاہےجن امور سے بچنا چاہیے ان سے تو نہیں رک رہےآخر ان کاموں پر ہی کیوں یاد آجاتاہےکہ روزہ ہے۔۔۔اصل روزہ پیٹ کاروزہ نہیں۔آپکووہ حدیث یاد نہیں جس میں نبیؐ نےفرمایا ہے

جس نے جھوٹ اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ اعمال سے اجتناب نہ کیا ، اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ شخص کھانا پینا ترک کر دے

توثابت کیاہوا اصل روزہ تمام برےکاموں سے بچنا ہے۔ناکہ صرف بھوک پیاس سے بچنا ہےیہ تیس دن باقی گیارہ ماہ گزارنے کی مشق ہے۔۔کوشش کریں جو کام اس ماہ شروع کریں عید کےبعد سے اگلے رمضان تک جاری رہے۔


Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours