نیک صالح اولاد اللہ تعالی کی طرف سے ایک نعمت ہے

اولاد میں بھی بیٹی بیش بہا عطیہ خدا وندی ہےحدیث کےمطابق بچی کی پرورش کرنے پر جنت کی بشارت دی گئی ہے اتنی بڑی خوشخبری لڑکوں کے لئے نہیں بلکہ صرف لڑکیوں کی عمدہ تعلیم وتربیت کے لئے آئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ بچے بچیوں کی تعمیر و ترقی کا سرچشمہ ماں کی گود ہی ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، یہیں سے ان کی تعلیم وتربیت کا آغاز ہوتا ہے

موجودہ دور میں بچیوں کی تعلیم وتربیت میں بڑی غفلت برتی جارہی ہے،ہم خصوصا پاکستانی مائیں اپنی بچیوں کی عمر کے بنیادی اور ابتدائی کچھ سال ( پانچ ،چھ سال کی عمر) یوں ہی ضائع کردیتی ہیں حالانکہ یہی عمر بچیوں کی خاص تربیت کی ہوتی ہےجہاں انکو عمدہ زبان سیکھاتی ہیں وہیں لباس بھی عمدہ پہنانےکی کوشش کرتی ہیں اور عمدہ لباس میں غیر اقوام کی نقالی ہوتی ہے

نت نئے فیشن اور ڈیزائن کے ملبوسات بچیوں کو پہنائے جاتے ہیں  ٹی شرٹس،جینز،ٹائٹس اور لیگی وغیرہ بعض ایسے کپڑے بھی ہوتے ہیں جس میں آدھی ٹانگیں،کہنیاں ،گلہ،کندھے تک عریاں ہوتےہیں، بعض اتنا باریک و تنگ ہوتے ہیں کہ جس کی وجہ سے جسم کی بناوٹ نمایاں ہوتی ہیں،اگرفراک بھی پہنایا توبغیر آستین کے اور بغیر پاجامے کے صرف نکر کےساتھ یا ٹائٹس کےساتھ،اور شادی بیاہ پر بھی اب تو مکمل بڑوں جیسالباس بغیر آستین اور دوپٹے کے  ننھی بچیوں کو پہنایا جارہا یے سات آٹھ سال تک کی بچیوں کو دوپٹے کی عادت نہیں ڈالی گئی ،میں نے اکثر دیکھا کہ سال دو سال کی بچیاں مکمل لڑکوں والے لباس اور بالوں کی کٹنگ کےساتھ ہوتی ہیں پہچانی نہیں جاتی کہ لڑکی ہے

اکثریت مائیں خود بھی ایسے ہی لباس پہنتی ہیں اور اولاد کو بھی ایسے ہی پہناتی ہیں بعض والدین سے جب کہا جاتا ہے کہ ایسے کپڑے نہ پہنائیں تو خود والدین کہتے ہیں کہ ابھی تو یہ بچیاں ہیں،جب بڑی ہوں گی تو نہیں پہنیں گی، جب کہ ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے، معلوم ہونا چاہیے کہ ہر لباس اپنا اثر رکھتا ہے:حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں لباس کا معاملہ اتنا سادہ اور اتنا آسان نہیں ہے کہ آدمی جو چاہے لباس پہنتا رہے اس لباس کی وجہ سے اس کے دین پر اس کے اخلاق پر اس کی زندگی پر اس کے طرز عمل پر کوئی اثر واقع نہ ہو۔

آٹھ دس سال تک بچیوں کو ساتر کپڑوں کی عادت نہ ڈالی گئی توبلوغت کےبعد انکو یہی کپڑے قیدخانہ لگیں گے،اس لئے چھوٹی چھوٹی بچیوں کو بھی ایسے ہی کپڑے پہنائیں جو شرعی ہوں آجکل مارکیٹ میں بآسانی ساترکپڑے بنے بنائےموجود ہیں ان لباس کی عادت ڈالی جائے تاکہ آگے چل کر ان کو ذہن و دماغ میں شرعی لباسوں کی اہمیت اور اس کی قدروقیمت باقی رہے، پھر انہی کی گود میں اہل اللہ اور بڑے بڑے اسلام کے جیالے تیار ہوں گے۔یہی کونپلیں کل امت کی مائیں ہوں گی، آج اگر ان کی صحیح تربیت ہوگی تو کل ان کی گود میں پلنے والے اسلام کے ہیرو ہوں گے۔

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours