سنا تھا کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے شاید یہ بات بھی درست ہو مگر میرے نزدیک خالی دماغ ہی نہیں بھرا ہوا دماغ بھی شیطان کا گھر ہوتا ہے۔۔۔۔جب انسان کے دماغ میں ایک ہی سوچ گھوم رہی ہواور وہ سوچ بھی منفی اور باقی سب سوچوں کے رستے بند ہوں تو دماغ پھر شیطان کا گھر ہی بنے گا۔۔۔وہ ایسے کہ ایک چیز کو دماغ پر سوار کر لینا دن رات اس کو سوچتے رہنا۔۔اسکے کام پر خود کو شمار کرنا اس کی سوچ کو پڑھنے کی ناکام کوشش کرنا اوراس کی چپ کو کئی معنی دینا۔۔اس کی خاموشی کو اپنی زبان دینا۔۔اپنے ذہن سے تخیلات کی دنیا بنانا اور تصور کر لینا ایسا ہوگا ایسا ہی تھا ایسا نہیں تھا ایسا نہیں ہو سکتا ویسا کیوں ہوا ایسے۔۔۔ویسے۔۔۔ہاں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔۔بس ایک چپ سے انسان کیا کیا سوچ لیتا ہے۔۔۔کسی کی خاموشی انسان کو کیا کیا سوچوا دیتی ہے۔۔۔ اور بعض اوقات کسی کا ایک جملہ بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔ہم ایک مثبت کردار کے مالک سے منفی رویہ و سوچ وابستہ کر لیتے ہیں ممکن ہے ایسا نہ بھی ہو مگر نہیں سوچوں کا یہی سمندر جب خالی دماغ کے ساتھ کام کرتا ہے تو لازماََ شیطان کا ڈیرہ بنا دیتا ہے۔۔۔۔
سائنسدان کے مطابق انسانی دماغ کے دو موٹے موٹے حصے ہیں ایک سیدھی جانب کا دماغ اور ایک الٹے جانب کا دماغ۔۔۔
جب ہم منفی سوچتے ہیں تو ہمارا الٹا دماغ استعمال ہو رہا ہوتا ہے اور ہم سیدھے جانب کے دماغ کا استعمال نہیں کرتے ہیں
کسی کے بارے میں کچھ بھی سوچنے سے پہلے بس ہم اپنا دائیں جانب کے دماغ کا بٹن آن کردیں اور پھر دیکھیں اس شخصیت کے بارے میں کتنا رنگین تاثر ہمارے ذہن میں پیدا ہوگا
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours