رات
کی خوراک (ترجمان القرآن کا مطالعہ) لینے اپنے کمرے میں آئی تو سردرد کے باعث خیال
آیا کہ بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کر کے کچھ سکوں حاصل کروں مگر کچھ سوچ کر رک گئی
کہ چلو اپنی بہن کے کمرے میں جاکر پڑھتی ہوں جہاں سب بہنیں اس وقت ڈیرہ ڈال کر خوب
گپ شپ لگاتی ہیں تاکہ
ہلکی
پھلکی گپ شپ بھی رہے اگر چہ میں گھر میں کم گو
اور نہایت بورلڑکی تصور کی جاتی ہوں پھر بھی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کچھ نہ
کچھ بول کر اپنے اوپر سے یہ داغ روز دھویا جائے مگر ناکام ہو جاتی ہوں
خیر
ارادہ تو تھا بہن کے کمرے میں جانےکا
مگر اچانک بادل کی گرج اور بجلی کے چمکنے نے میرا دھیان کمرے کی گیلری کی طرف کر
دیا جس کا دروازہ تو بند تھا پر کھڑکی کھلی تھی۔۔ساتھ ہی ٹپ ٹپ ٹپ ۔۔۔بارش برسنے
کی آواز آنے لگی۔۔پانچ قدم کی مسافت پر چل کر کمرے کی کھڑکی کے پاس جا کھڑی
ہوئی۔اندھیرا اتنا تھا کہ کچھ نطر نہ آیا اچانک بجلی کے چمکنے سے سامنے گھر کی
کھڑکی نظر آئی اور بے اختیار اس گھر کے مکین یاد آئے جو گزشتہ 3 ماہ سے گھر چھوڑ
کے جا چکے تھے اور ابھی تک گھر ویران پڑا تھا۔۔۔بارش نے اپنا زور پکڑ لیا۔۔ٹھنڈی
ہوا سے میرے کمرے کی کھڑکی کے پردے ایسے ہل رہے تھے جیسے کوئی چھوٹا بچہ پردے سے
جھول رہا ہو۔۔بادلوں کی گرج اور خوفناک آواز وقفے وقفے سے آرہی تھی ۔۔ موبائل پر
وقت دیکھا تو ایک بج کر تئیس منٹ ہورہے تھے۔۔کہتے ہیں بارش اداس کر دیتی ہے ۔۔اور
بارش میں فلاں فلاں کی یاد آتی ہے۔۔ہاں میرے ساتھ بھی یہی ہوا بارش میں مجھے بھی
کچھ یاد آیا اور مجھے اداسی نہیں بلکہ فکر لاحق ہوئی۔۔۔مجھ جیسی بقول میرے گھر
والوں اور سہیلیوں کے کہ خشک مزاج بورنگ اور کم گو لڑکی اور ہو بھی تحریکی تو ایسے
میں بارش میں اپنے پیارے محبوب (تحریک)کو ہی سوچے گی۔۔۔ہاہاہا خود پر بہت ہنسی
آرہی کہ اس قدر رومانوی موسم میں مجھے یاد آیا بھی تو کیا۔۔۔کل جمعیت کی ضلعی نشر
و اشاعت کی نگران کو فون کرنا ہے۔۔اپنی مقامی ناظمہ کو بھی فون کروں گی کہ میٹرک
کی پارٹی کے جو انتظامات میرے ذمے ہیں وہ
سر انجام دینے کے لیے کب سے میدان میں آیا جائے۔۔اتوار کو آئی ٹی کی میٹنگ میں
اپنی آئی ٹی کی نگران سے کرپشن فری کا مگ بھی لوں گی۔۔۔
اس
بار سنٹر میں بچوں کے پندرہ روزہ تربیتی پروگرام میں ان کی ماؤں کو بھی بلایا
جائے۔۔قرآن انسٹیٹیوٹ مرکز راولپنڈی پنجاب
کی نگران سے سنٹر میں ناخواندہ
بچوں کو تعلیم دینے کے لیے مشورہ کیا تھا ابھی تک جواب نہیں آیا۔۔۔کل باجی نے
لاہور اسکول میٹنگ میں جانا میں ایک بھانجے کو اپنے ساتھ سنٹر لے جاؤں گی تاکہ وہ
پیچھے سے امی کو تنگ نہ کرے۔۔۔ساتھ ہی بیڈ پر سوئی ہوئی امی پر نظر پڑی ہے کہ
چھوٹی لائیٹ چلا کر کتاب لینے آئی تھی اور کھڑکی میں کھڑے ہوکر تحریک سے وابستہ
رومانوی سوچوں میں پڑ گئی اس سے پہلے کہ امی کی نیند خراب ہو میں نے پردہ کھڑکی کے
آگے سرکایا لائیٹ آف کی اور دوسرے کمرے میں آگئی۔۔۔
!!!!!!ہائے
میرے محبوب


Post A Comment:
1 comment so far add yours
بہترین الفاظ بندی اور خیال. ماشاءاللہ
ایک تبصرہ شائع کریں