اھل علم لوگوں کی سادگی تمام لا علم لوگوں کے لیے ایک نمونہ ھے۔۔سادگی کا درس میں
نے سنا بھی اور دیا بھی،، خود کو سادگی میں ڈالا بھی اور سمجھا بھی کہ میں سب سے
زیادہ سادگی پسند ھوں مگر ایک ہستی سے مل کر خود کو زیرو پر لے آئی کہ یہ ہستی اگر
اس قدر سادھا ھے تو میں تو کچھ نہیں۔۔۔لیکن پھر سوچوں میرا اور ان کا کیا جوڑ
بھلا۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں قرآن انسٹیٹیوٹ کی ورکشاپ کے بعد رات دس بجے منصورہ
سونے کے لیے تمام شرکا۶ اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار اپنی منزل کی جانب گامزن
تھے۔مجھے ایک رکن جماعت خاتون خالہ رشیدہ صدف جن کا تعلق گجرات سے ہے جو کہ میری
والدہ محترمہ کی بچپن کی سہیلی ہیں اور میرا ان سے رشتہ بالکل سگی خالہ بھانجی
جیسا ھے اسی وجہ سے ہمیشہ اجتماعوں پہ میرا ان کا جوڑا ایک جگہ پایا جاتا ھے ان کی
کتاب کو بلاگ کی شکل میں بدلنے کے لیے دفتر خواتین میگزین عباس صاحب سے ملاقات کے
لیے جانا تھا تاکہ ان سے کتاب کی سافٹ کاپی لی جا سکے۔میں اور خالہ جان دفتر پہنچے
عباس صاحب سے سافٹ کاپی یو ایس بی میں کروائی اور میں اور خالہ جان کتابوں سے سجی
الماری پر نگاہ ڈالے للچا تے رہے کہ کون سی کتاب لی جائے اور کون سی نہ لی جائے
علم کے پیاسے کی پیاس کبھی نہں بجھتی۔۔۔خالہ جان نے کسی آپا کے گھر کا پتہ پوچھا
تو عباس صاحب نے کہا کہ ساتھ والی گلی میں ہی گھر ھے۔میں اور خالہ جان گاڑی میں
بیٹھے تو پتہ چلا کہ ام عبد منیب کے گھر جارہے ہیں میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ
تھا کہ میں اور وہ بھی ایک عظیم ہستی کے گھر۔۔۔ انسے ملاقات۔۔۔ کچھ فاصلے پر موجود
گلی میں عباس صاحب کی رہنمائی میں پہنچے۔ مچلتے جذبات کو قابو کرتے کرتے راستہ ختم
ہوا اور گاڑی عین گھرکے سامنے رکی۔جس کا ایک بڑا گیٹ تھا۔گیٹ کے چھوٹے دروازے کو
عبور کرتے ھم دائیں طرف موجود کمرے میں چلے گئے جہاں ایک بزرگ خاتون سادھے کپڑوں
میں عام سا دوپٹہ لپیٹے ھم سے نہایت گرم جوشی کے ساتھ ملیں۔غالبا وہ ام عبد منیب
کی والدہ تھیں کمرے میں موجود پرانے طرز کی کرسیوں پر بٹھایا۔میں نے پوچھا خالہ
جان یہ آپا کون ہیں۔۔۔پتہ چلا کہ یہ ام عبد منیب ہیں۔۔۔۔اوہ واقعی حیرانگی اتنی
تھی کہ میں نے تو ان کو کوئی جوان خاتون سمجھا ہوا تھا۔۔میں ہکا بکا اور خوشی کے
جذبات کو بے قابو کرتے اوہ آپا آپ ام عبدمنیب ہیں میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں آپ سے
نکاح سیٹ منگوایا تھا بہت مشکل سے ملا تھا۔۔اوہ مجھے یقین نہیں آرہا میں آپ سے مل
رہی ہوں۔۔
آپا کے خلوص سے جتنی متاثر ہوئی اتنا ان کی غائبانہ تعارف سے بھی نہیں ہوئی اور سب
سے متاثر کن بات ان کی بے پناہ سادہ زندگی۔۔۔ایک بڑا کمرہ جس کی دو دیواروں پر
کتابوں کی الماری تھی جس میں ان کا اپنا تحریر کردہ مواد موجود تھا۔درمیان میں ایک
چارپائی بغیر بستر کہ جس پر ایک تکیہ اور ایک چادر موجود تھی۔جو خالہ جان سے پتہ
چلا کہ بچپن سے ہی ان کوبغیر بستر کہ سوتے دیکھا۔۔۔چارپائی کے ساتھ ایک پلاسٹک کی
چھوٹی میز جس پر اوراق، قلم و دوات موجود تھی جو اصل ان کی زندگی کا اثاثہ تھے۔اور
کمرے میں چار کرسیاں جو مہمان و خریدار کے بیٹھنے کی تھی۔ دیوار کے کونے پر ایک
چھوٹی میز تھی وہ بھی کتابوں سے بھری پڑی تھی اس کے علاوہ اور کوئی سامان مجھے نظر
نہ آیا۔ملک کی بہترین لکھاریوں میں ایک نایاب نام ام عبد منیب ۔۔۔جن کی کتابوں کے
مطالعے سے ناجانے کتنی زندگیاں بدلیں اور کتنوں نے اپنی آخرت سنواری۔۔۔ ایسی
بہترین لکھاری جنہوں نے ولادت سے لے کر وفات تک زندگی کے ہر ہر پہلو کو قلمبند کیا
اور رہنما اصول مرتب کیے۔۔ بچوں کی کہانیاں ہوں یا بڑوں کے مسائل۔۔بیماری ہو یا
صحت کے مسائل۔۔۔سیاسی مسئلہ ہو یا معاشی۔۔۔شادی ہو یا طلاق کا مسئلہ ۔۔۔غرض تمام
مسائل کے حل انہوں نے نہایت احسن طریقے سے قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیے ۔۔وہ
اپنی مثال آپ والی شخصیت کی مالک ہیں۔۔تین بیٹوں اور بہوکے ہوتے انہوں نے اپنی
زندگی صرف اسی کمرے تک محیط کرلی اور دن رات غور و فکر سے معاشرتی و گھریلو مسائل
کے حل تلاش کیے اور ورق پر ڈالتی گئیں۔کھانا مل گیا تو ٹھیک ہے ورنہ دودھ اور
کھجور سے گزارا کرکے سنت نبوی ؐ کو زندہ کر دیا تو کبھی اپنی سادگی سے سب کو اپنے
اسلاف کی یاد دلا دی جنہوں نے ایسی ہی سادہ زندگی گزار کر دوسروں کو زیور تعلیم سے
آراستہ کیا۔۔ بغیر کسی سوشل و الیکٹرانک میڈیاکے ناجانے وہ دنیا کے رنگ دیکھے بغیر
کیسے راہ حق کی طرف بلا لیی ہیں۔۔۔ایک خوش مزاج،ملنسار،سادہ، اعلی تربیت
یافتہ،دنیا کی خواہشات سے بیگانہ۔۔۔اللہ جن کو اپنے دین کے لیے چن لے وہ ایسی ہی
مثالیں چھوڑ دیتا ہے تاکہ ہم جانیں کہ آج کی عیش پرستانہ دنیا میں ابھی بھی ایسے
لوگ موجود ہیں جن کو دیکھ کراللہ یاد آجاتا ہے۔۔ جاتے جاتے اپنی ڈائری پر انسے
اپنے نام ایک پیغام (آٹو گراف)بھی لیا۔۔۔وہ پیغام بھی کیا دیتیں وہی جو ان کا اپنا
اوڑھنا بچھونا بھی تھا
مجھے پر حیرت کا پہاڑ مزید ٹوٹا جب پتہ چلا کہ ام عبد منیب کی تعلیم پانچویں جماعت
تک ہے۔۔۔



Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں