مجھے یاد ہے جب میں نے نیانیا مدرسے میں داخلہ لیا تھا۔کالج سے پڑھی لکھی لڑکی جب ایسے ستھرے ماحول میں تعلیم حاصل کرتی ہے تو یقینا ایک نئے ماحول سے سابقہ پیش آتا ہے اور ایک آزاد ماحول سے جب تنگ ماحول میں جائے گی تو کچھ اثر صحبت پر تو پڑے گا ہی تنگ نہیں کہہ سکتے محدود ماحول کہہ سکتے ہیں۔خیر دوسرا یا تیسرا دن تھا میں محسوس کرتی تھی کہ کلاس میں آنے والی ہر استانی سر پہ دوپٹہ لیے آتی ہے پھر خیال آتا اللہ کا کلام جو سیکھانا شاید اسی لیے۔۔ مگر میں نے دیکھا کہ کلاس لینے کے بعد سٹاف روم میں بھی دوپٹہ لیے رکھتی ہیں۔پھر سوچا ہاں اسی لیے کہ یہ ادارہ اسلامی ہے۔دن گزرتے گئے انکا دوپٹہ لینا جو عجیب عجیب لگتا تھا اب دیکھنے کی عادت ہوچلی۔پھر اتفاقا ایک استانی کے گھر جانا ہوا جانا بھی اچانک ہوا تو وہاں بھی وہ دوپٹہ سر اور سینے پر اوڑھے کام میں مصروف تھیں۔ میں تو جس ماحول میں پلی بڑھی وہاں دوپٹہ بس ایک برائے نام سا کپڑا تھا۔اور جہاں سے تعلیم حاصل کی وہاں بھی دوپٹہ بس فیشن تھا مدرسے سے جانا دوپٹے کا اصل مقصد کیا تھا۔اور سچ کہتے ہیں ماحول کا بہت اثر انسان کی شخصیت پر پڑتا ہے۔چودہ سال دنیوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب دینی تعلیم کے لیے اس ادارے میں گئی تو ماحول نے جکڑ لیا دو سال میں ہی میری زندگی میں زمین آسمان سا فرق نظر آیا چودہ سال کا ماحول اپنی سحر انگیزی میں جکڑ نہ سکا جو دوسال مین قرآنی ماحول نے جکڑ لیا ایسی کشش پائی کہ آج مدرسہ چھوڑے چارسال ہوگئے مگر میرا دوپٹہ سر سے نہ اترا اور سینے سے نہ ہٹا۔۔اور دو سال جوسیکھا وہ چودہ سال سیکھنے سے بددرجہ اولی افضل تھا
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours