کچھ آنکھوں دیکھے تجربات اور کچھ ذاتی تجربے سے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ شادی بیاہ کی رسم و رواج کو صرف لڑکے والے ہی ختم کرسکتے ہیں۔آج میری ایک سٹوڈنٹ پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئی اور کہنے لگی عنقریب میری شادی ہے میں شادی پر پردہ کرنا چاہتی ہوں پر لڑکے والے نہیں مان رہے کہتے سٹیج پر جب بٹھانا ہوگا تب پردہ نہیں کرنا۔۔ آپ بتائیں کیا کروں۔۔ 
دل ڈوب سا گیا کہ لڑکے والوں کو تو خوش ہونا چاہیے ان کے ہاں نیک پارسا بہو آرہی ۔میں کیا مشورہ دیتی کڑھ کر رہ گئی کہ یہ مسائل کسی ایک گھر یا لڑکی والوں کے نہیں،یہ مسائل ان سب لڑکی والوں کو پیش آتے ہیں جو شادی کو سادگی سے کرنا چاہتے ہیں۔۔ ایسے میں رسموں کو صرف لڑکی والے ختم نہیں کرسکتے لڑکے والوں کا تعاون لازمی ہے۔میں نے اسے صلوۃ حاجت کے نفل پڑھ کر اللہ سے دعا کرنے اور اپنی تہی پوری کوشش کرنے کو کہااور مشورہ یہی دیا کہ اپنی شادی پہ بےپردہ مت ہونا۔۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ دین کی جنگ لڑو تبھی کامیابی ہے اپنی شادی پہ ایک سنت زندہ کروگی تو 
سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔۔

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours