میری ایک بہت دیندار سہیلی کی شادی ہوئی۔اتنی نیک کہ کسی نامحرم نے اسے نہیں دیکھا اتنی شریف کہ محلے والے اسکے کردار کی گواہی دیتے،رشتہ طے ہوا بے جوڑ۔۔ شاید ہمارے نزدیک بےجوڑپر اللہ ہی بہتر جانتا کہ بےجوڑ ہے یا نہیں۔شادی بیاہ کی رسموں کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی کبھی پیار سے کبھی لڑکر،کبھی ناراضگی سےکبھی غصے سے،بہرحال منگنی ہوئی مکمل رسموں رواجوں کے ساتھ لڑکے والوں نے ایک نہ سنی،شادی آن پہنچی،بارات سے ایک دن پہلے گھر میں درس کا اہتمام کیا گیا دعائے خیر ہوئی، بارات والے دن دلہن بنی اپنے گھر والوں سے منت سماجت کرتی رہی مجھے سٹیج پر بے پردہ نہ بٹھائیے گا۔آپ جو مرضی کریں پر مجھ پر چادر رکھیے گا۔ مسکین لڑکی والے اور ظالم لڑکے والے سٹیج پر چادر سمیت لے تو گئے مگر جاکر چادر اتار دی نند صاحبہ فرمانے لگی کوئی بات نہیں یہ سارے رشتے دار تمہارے اپنے ہیں ،، جب کہ لاعلم یہ نہ جانتی تھی کہ شوہر کے سسرال میں سب محرم نہیں ہوتے دیور و جیٹھ بھی محرم نہیں تو باقی رشتے کہاں محرم ٹھہرے۔۔نہ لڑکے والوں کو اس باپردہ کو بےپردہ کرتے شرم آئی نہ ہی لڑکی کے گھروالوں کی ہمت ہوپائی کہ بڑھ کر اس کو بےپردہ ہونے سے بچاتے۔۔ اور ولیمہ تو تھا ہی جوائینٹ۔۔ اب خود سوچ لیں میری سہیلی کو گناہ گار کس نے کیا؟
Home
Unlabelled
دلہن کا پردہ
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)


Post A Comment:
2 comments so far,add yours
میری ایک بہت دیندار سہیلی کی شادی ہوئی۔اتنی نیک کہ کسی نامحرم نے اسے نہیں دیکھا اتنی شریف کہ محلے والے اسکے کردار کی گواہی دیتے،
...
اگر کسی نے دیکھا نہیں تھا تو محلے والے نیک نامی کی گواہی کیسے دیتے ؟؟
پاکستان میں شادی بیسہ کی رسموں میں دینی شعار کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکالا جاتا ہے رسم و رواج اتنے جڑ پکڑ گئے ہیں کہ اچھے خاصے دیندار گھرانے بھی اب ان رسموں کے بغیر شادی مکمل نہی کر پا رہے خاص کر ہماری خواتین مقامی رسوم کی اس قدر دلداہ ہیں کہ ان کو روکنا گیا طوفون میل کو روکنے کے متراداف ہے
ایک تبصرہ شائع کریں