جسٹس فار زینب!!! زینب کے قاتلوں کو پکڑو!!! معصوم بچی کے ورثاء کو انصاف دو!!! اس طرح اور اس جیسے بہت سے جملے سوشل میڈیا پر زینت بنے ہوئے  ہیں۔۔ملک کا بندہ بندہ زینب کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ،زیادتی،درندگی اور ورثاء کے لیے ہمدردی کا اظہار کررہا ہے،بچے سوال کررہے ہیں زینب کو کیا ہوا کس نے مارا کیوں مارا کیا وہ برے لوگ پکڑے گئے ہیں!!! کسی ماں کے پاس ان سوالوں کا جواب نہیں ہےہو بھی کیسے!!! مائیں خود خوف زدہ ہیں پریشان ہیں مایوس ہیں گھبرائی ہوئی ہیں اپنی بیٹیوں کو تحفظ کیسے دیا جائے کس کے پاس جاکر دہائی دی جائے۔کس سے امید لگائی جائے کہ کیا میں اپنی بچی کو اسکول بھیجوں تو وہ سہی سلامت لوٹ آئے گی؟ کیا میں اپنی بچی کو قرآن پڑھنے بھی بھیجوں تومجھے ساتھ کوئی چوکیدار بھیجنا پڑے گا۔۔؟؟ یہاں ہر شخص ہوس پرست ہے بالغ بچیاں تو پہلے سے ہی ان درندوں کے نشانے پر تھیں اب نابالغ بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔اللہ نے مرد کو عورت کا محافظ بناکر بھیجا ،جب محافظ ہی غدار اور نمک حرام نکلے تو پھر کس سے تحفظ مانگا جائے۔ کیا ان انسان نما شیطانوں کوپکڑ لینے سے یہ جرائم ختم ہوجائیں گے؟ ہوسکتا یہ گروہ پکڑے جانے کے بعد نیا گروہ جنم لے جو بالغ و نابالغ تو کیا بوڑھی عورتوں کو نشانہ بنائے،یہ بھی ممکن ہے شادی شدہ عورتیں ان کی نظروں میں ہوں اور انکو جنسی زیادتی سے ہلاک کردیں۔۔ کتنے گروہ پکڑیں گے نیا گروہ جنم لے گا،یہ جرم تب ختم ہوگا جب پکڑے جانے والے گروہوں کو سزائے موت ملے گی۔قتل کے بدلے قتل۔۔۔ پھر دوسرا گروہ جنم نہیں لے گا،پھر ہر ماں بےخوف ہوجائے گی،پھر ہر لڑکی بغیر کسی محافظ کے گھر سے باہر نکلے گی اور دنیوی امور سرانجام دے گی۔پھر امن ہوگا۔ پھر زینب نہیں ماری جائے  گی !!!
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours