بچپن میں بڑی عید( جس کا بعد میں علم ہوا کہ عید الاضحی ہے )کا خاص انتظار ہوا کرتا تھا۔ابومرحوم عید سے چند دن قبل بکرا خریدتےجوہمارے کھیلنے کا سامان ہوتاسارا دن گھر کے باہر بندھا ہوتاپھر رات گھرکےسامنے حویلی میں باندھادیاجاتا تھا۔دن بھر اس بکرے کے ساتھ کھیلنا اسکو گھاس ڈالناکبھی چارہ اور بھوسہ کھلانا کبھی درخت کے چھوٹے پتے اسکے آگے کرناجب کبھی وہ کھانے کے لیے منہ آگے کرتا ڈر کر ہاتھ پیچھے کرلینا۔کبھی اسکے سینگوں کے ساتھ کشتی کرناکبھی اسکو نہر کرانے لےجانااور سیر کروانا۔گلی کے دوسرے بچوں کے آگے اترانا کہ میرا بکرا زیادہ بڑا ہےکبھی حسرت کرنا کہ اس بار فلاں دوست نےبکرےسےبھی بڑا جانور" گائے" لی ہے۔پھر سب بکروں کی دوڑ کا مقابلہ کروانا۔۔عیدکی رات کو دیر تک گلی میں باندھے رکھنا اور سب بچوں کےساتھ بیٹھ کر چہ مگوئیاں کرنا کہ اس رات اسکو چھریاں نظر آنی ہیں دیکھو کتنا ڈر رہا ہےپھر اگلے دن ذبح کے وقت گھرکے جالی دار دروازے سے دیکھنا اور ڈرنا کہ اب اسکو چھری لگنے لگی ہے اب یہ چیخے گا۔پھر گوشت بن جانے پر اسکو یاد کرکےرونا۔
پھر جب بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیمؑ کی یاد میں قربانی کی جاتی ہے۔پھر ہر عید پہ اس مینڈھے کو یاد کیاجاتا جو ابراہیمؑ کے پاس آیا تھا۔جسے آپؑ نے اپنے بیٹے کی جگہ قربان کیا۔
پھرجب عمرکے اس حصے میں پہنچےجس میں نوجوان نسل اٹھکیلیاں کرتی موج مستی میں وقت گزارتی ہے قرآن سے وابستگی ہوئی تو قربانی کے اصل مفہوم سےواقفیت حاصل ہوئی جس نے عقل و شعود کو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔۔کہ یہ بس جانور قربان کردینے پرمحدود نہیں اسکا تعلق نیت اور سب سے بڑی بات اپنی ذات سے ہے۔یہ دن یاد دلاتا ہے کہ ہم اس جانور کے علاوہ اللہ کے لیے کیاکیا قربان کرسکتے ہیں۔اب شعور آیا کہ  یہ دن جانور سے مستی کرنے کا نہیں ناہی ایک دوسرے پر فخر جتانے کا ہے بلکہ اس جانور کی طرح اپنےآپکو ہر وقت اللہ کےآگے سرتسلیم خم کرنے کا ہےجیسے اس جانور کو اللہ کی راہ میں قربان کیا ویسے ہی اپنا نفس،اپنا وقت،اپنی عقل،اپنادل،اپنی صلاحیتیں اپنا گھربار،رشتے سب اللہ کی راہ میں قربان کریں۔یہ عید الا ضحی عرف بڑی عید کچھ بڑی بڑی قربانیاں مانگتی ہے نصاب ہے تو جانور قربان کردیں ورنہ اپنا وقت،علم،صلاحیت،رشتے،نفس تو بغیرنصاب کے قربان کرناہی پڑے گا۔قرآن سے جڑنےکےبعد معلوم ہواکہ قربانی اصل میں جانور کی ہی نہیں بلکہ ہر اس چیز کی ہے جواللہ نے آپکودی ہے جسے آپ دن رات استعمال کرتے ہیں۔قرآن سے تعلق کے بعد معلوم ہواکہ بچپن میں جس بکرے کو ذبح ہوتا دیکھ کر‌"میرا بکرا" کہتے تھے درحقیقت وہ میرا تھاہی نہیں وہ تو اللہ کا تھا اس بکرے کےساتھ ساتھ ہر چیزکا احساس اب جاکر ہوا کہ میری کوئی بھی چیز میری نہیں سب اللہ کی ہے اسی کی چیز اسی کوواپس کرنی ہے اور پھر بھی اسکو واپس کرنے کا نام "قربانی" رکھاگیا۔کیسی عجیب بات ہے!یہ دن ایک دوسرے پر فخر کرنےکی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کا ہے کہ ہم کس قدر اخلاص کے ساتھ قربانیاں کرتے ہیں۔اوراس جانورکےساتھ ساتھ اور کس چیز کو قربان کرنےکا حوصلہ رکھتے ہیں۔سب سے قیمتی چیز! زندگی!!! اسے تجربوں کی نذر کرنے کے بجائے اللہ رب العالمین کے لیے قربان کریں کیونکہ آپکی زندگی آپکی موت کافیصلہ کرے گی،
!سعادت بھری یا بدبخت موت
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours