ان تصاویر میں جو بچے آپکو نظرآرہے ہیں وہ اپنے والدین کی تربیت سے پریشان ہیں اور پریشانی کے عالم میں احتجاجا سڑکوں پر نکل آئے ہیں کہ والدین ہمیں وقت نہیں دیتے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایسے ممالک میں والدین اپنے دو سے تین سالہ بچوں کو ڈے کئیر سنٹر میں چھوڑدیتے ہیں اور غالبا یہ قانون بھی پاس ہوا تھا کہ والدین اگر بچے کو ماریں پیٹیں گے تو جیل ہوجائے گی۔ پھر کچھ ایسے قانون بھی لاگو ہوئے کہ دس سال تک کے بچوں کو موبائل سے دور رکھا جائے گا۔تاکہ انکی نئی نسل کسی اخلاقی برائی میں مبتلا نہ ہوجائے۔مگر ان تصاویر میں معاملہ الٹ نظر آرہا ہے جو بات والدین نہ سمجھ سکے وہ اب بچے سمجھ گئے ہیں انکو والدین کی کتنی ضرورت ہے۔یہ بچے آجکل کے والدین کے لیے سبق آموز اور کچھ شرمندہ آموز تلخ حقیقت ہیں نہ صرف مغرب کے لیے بلکہ بدقسمتی سے مشرقی والدین کے لیے بھی۔دیکھا جائے تو جو قوانین مغرب نے بنائے اس پر اسلامی ممالک نے دل و جان سے عمل کیا۔اپنے چھوٹے بچوں کے لیے ڈے کئیر سنٹر بنائے اور پلے گروپ کے نام سے بچوں کو اس میں داخل اس وقت کیا جب وہ اپنی ماں سے چھاتیوں سے چپکے دودھ پینے کی آخری مدت میں تھے۔پھر کچھ بڑے ہوئے تو انکو موبائل تھماکر گیموں پر لگادیا پھر انکے تعلیمی دور کا آغاز ہوا تو رفتہ رفتہ وہ دنیوی زندگی میں ایسے مشغول ہوئے کہ اپنے رشتوں تک کی قدربھول گئے۔پھر والدین کا شکوہ آنے لگا کہ بچے موبائلوں کے ساتھ لگے رہتے ہیں ہمیں وقت نہیں دیتےشاید اس میں بھی نوے فیصد قصور والدین کا ہی ہے مگر اب حالات قدرے بدل گئے ہیں بچوں کی تربیت سے بڑھ کر والدین کی تربیت کی فکر ہے ان بچوں نے ثابت کیا کہ جس سمارٹ فون کو ہمارے لیے بند کیا تھا اسکو والدین کے لیے بند کرنا چاہیے تھا حالات اس قدر سنگین ہوچکے ہیں کہ انہی موبائل کی وجہ سے نوبتیں طلاق تک پہنچ چکی ہیں۔شوہر کا شکوہ ہے کہ بیوی موبائل پر توجہ دیتی ہے اورمجھ سے بچوں سے غافل ہے بچے کہتے ہیں کہ ماما موبائل پر فیس بک دیکھتی رہتی ہے اور میرے ساتھ باتیں نہیں کرتی۔ نومولود سے شیرخوار بچے تک بھی نظر انداز ہوتے ہیں چیخ چیخ کر ماؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ
ماں!!! موبائل چھوڑ اور فیڈر بناکے دے
ماں!!! فیس بک پر پوسٹ بعد میں ڈالنا پہلے میرا پیمپر بدل دو مجھے الرجی ہورہی ہے
ماں!!! ٹویٹر پر شاعری بعد میں ڈالنا پہلے میرا بستر کرکے مجھے سلادو۔
ماں!!! واٹس ایپ پہ رونے دھونے والا سٹیٹس بعد میں ڈالنا پہلے مجھے کھانا دے دو
کتنے ہی ایسے واقعات سن چکے ہیں کہ مائیں اپنے موبائل کی خرافات میں مست اپنے اس ایک سالہ بچے سے غافل رہیں جو واش روم کے ٹب میں ڈوب کر مر گیا۔جبکہ ایک سے دس سال تک کے بچوں کااپنے والدین خصوصا ماں کے لمس اسکی توجہ اسکی باتیں اسکے ساتھ کھیلنا ساری عمر کی تربیت کرنے کے برابر ہے۔ ماں بچے کی اولین درسگاہ تھی بدقسمتی سے اب ہے نہیں!!! اب اسکی اولین درسگاہ وہ موبائل ہے جو اسکو تھما کر خود بھی موبائل میں منہمک رہتی ہے۔ماؤں کے پاس آجکل اتنا بھی وقت نہیں کہ بچے اسکول سے آئیں اور وہ انکے اسکول کی روداد سنیں۔ ماؤں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ جان سکیں میرا بچہ قرآن مجید کے کونسے پارے پر پہنچ گیا ہےماؤں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ بچوں کے ساتھ کوئی کھیل کھیلیں ہر وقت فیس بک ،اور فیس بک پر بچوں سے محبت میں مبتلا پوسٹ ڈالنا جو یہ ظاہر کروانا کہ بچوں کی تربیت کی انکو کتنی فکر ہے مگر انہی کے بچے سب سے زیادہ ماؤں کی طرف سے نظراندازی کا شکار ہیں۔کچھ میرا آنکھوں دیکھا تجربہ بھی ہے کہ بچہ موبائل میں منہمک ماں کے پاس آتا ہے ماں بھوک لگی ہے فیڈر بنادو۔ماں کہتی ہے اچھا میں ابھی بناکر دیتی ہوں ،پھر کچھ لمحے بعد یہی جملہ دہرایا جاتا ہے مگر ماں نہیں اٹھتی پھر تیسری بار دہرانے پر ماں الجھ جاتی ہے تو تلخ زبان استعمال کرتے بچے کو ڈانٹ دیتی ہے کہ ایک تو تم ہر وقت بھوکے رہتے ہو ۔ایک وقت تھا ماں کو پہلے سے پتہ ہوتا تھا کہ بچے کے فیڈر کا وقت ہے تیار کردوں تب ماوں کے پاس موبائل نہیں ہوتے تھے انکو بچے عزیز تھے انکی تربیت ان سے کھیلنا باتیں کرنا پسند تھا مگر آجکل مائیں ان خرافات کی دنیا میں مست بچے کو دو سے تین بار فیڈر بناکردینے پر ہی الجھ جاتی ہے۔
یہ احتجاج کرنے والے بچے مسلمان ماؤں کے منہ پر طماچہ ہیں کہ اگر ہم بےدین ہوکر اپنے والدین کو اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تم لوگوں نے تو اپنے خدا سے عہد کررکھا ہے کہ بچوں کی تربیت اسلامی نہج پر کریں گےتم لوگوں نے تو انکو عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ بنانا ہے ہم بے دین ہوکر فکر مند ہیں تم لوگ دین والے اور مسلمان ہوکر اپنی اولاد سے غفلت میں مبتلا خود بھی موبائل کی دنیا میں جابسے اور اولاد کو بھی موبائل تھمادئیے جب بچے زیادہ موبائل کے شیدائی ہوگئے تو شکوے کرنے لگ گئے کہ بہت موبائل استعمال کرتا ہے۔پہلے خود ہی موبائل تھمانا پھرخود ہی شکوے کرنا۔!! ہم بےدین ہوکر اس ضرورت کو محسوس کررہے ہیں کہ ہمیں والدین کی توجہ چاہیے تم قران کے حامل ہوکر یہ نہ سمجھ سکے یہ بچے اللہ کی امانت ہیں ان میں خیانت نہیں کرنی۔ موبائل میں مست ماں کا لہجہ ہر وقت چیخنا چلانا مارنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے فیس بک والوں کو تو متاثر کرسکی مگر اپنے بچوں کو اپنے سے دور کردیا۔اپنی محبت بھری پوسٹ سے فیس بک والوں کے دل میں تو گھر کرسکی مگر اپنے بچوں کے دل میں جگہ نہ بناسکی۔ اپنے اچھے اخلاق سے ٹویٹر کی سرزمین فتح کرلی مگر اپنے بچوں کے دل فتح نہ کرسکی۔افسوس!!!



Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں