ہم میں سے ہر شخص زمہ دار ہے اور قیامت کے دن اس سے اپنی ذمہ داری کا جواب دینا ہے

(نبی محترمؐ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جواپنے گھروالوں کے لیے اچھا ہے اورمیں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر اوراچھا ہوں )

دیکھا جائے تو یہ حدیث صرف شوہر کے لیے ہی نہیں کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کتنا اچھا ہے یہ حدیث گھر میں ہر ہر فرد پر لاگو ہوتی ہےسب سے پہلے
والدین
گھر سے باہر انکا رویہ بہتر ہے اور گھر میں سخت و تلخ مزاج ، معاشرے میں تو اپنے بچوں سے محبت کا اظہار مگر گھرآتے ہی بچوں سے لاتعلقی اور ڈانٹ ڈپٹ مار پیٹ۔سوشل میڈیا پر تو بچوں کی تصاویر مگر گھر میں انکو گود تک میں بٹھانے کے روادر نہیں۔معاش تو بچوں کے نام پر کرے مگر عیاشیاں دوستوں کے لیے تو ایسے میں دیکھنا ہوگا میں بیحیثیت ماں یا باپ گھر میں کیسا ہوں یا کیسی ہوں
بھائی/بیٹا
باہر تو میں دوسروں کی بہنوں سے پیار سے بات کروں گھرآتے بہنوں سے سخت کلامی اور ڈانٹ ڈپٹ،بیٹا ہوں تو گھر سے باہر تو ماں باپ کا خدمت گزار بنوں اور گھر آؤں تو ماں باپ مجھ سے پناہ مانگیں
بہن/بیٹی
بہن ہوں تو کیسی ہوں اگر بڑی بہن ہوں کیا چھوٹوں سے شفقت کرتی ہوں کیا بہنوں کا سہارا انکی خدمت ان کے ساتھ گھر کے کام میں تعاون کرتی ہوں،یا چھوٹی بہنوں سے خدمت کرواتی انکو حکم دیتی ہوں،چھوٹی بہن ہوں تو بڑوں کے ساتھ کیسی ہوں، بیٹی ہوں تو کیسی ہوں کیا گھر والے میری وجہ سے پریشان تو نہیں کیا ماں باپ کو سہارا دیتی انکی خدمت کرتی ہوں کیا گھر کے کام اور ذمہ داری کااحساس ہےیا میں کسی پر بوجھ تو نہیں؟کیا میرے اندر گھرکے کاموں سے بیزاری تو نہیں،کیا مجھے گھر کے کاموں کے لیے کہنا پڑتا یا میں خود اٹھ کر کام کرتی ہوں۔میں لاپرواہ تو نہیں؟
اپنااپناجائزہ لیں کیا میں اس حدیث کے مطابق گھر میں اچھافرد ہوں یا برا؟
#در
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours