آجکل شادیوں کا سیزن ہےتمام میرج ہالز بک ہوچکے ہیں ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ اچھے سے اچھا ہال بک کیا جاے جس میں ڈیکوریشن اچھی ہو بیک گراؤنڈ تھیم اچھا ہو کشادہ ہو لائٹنگ بھی ہو پھر داخلی راستے کو بھی اب ترجیح اول میں رکھا جاتا ہے کہ دلہا دلہن اور دیگر مہمانوں کے آنے کے راستہ کتنا دلکش و نمایاں ہونا چاہیے۔آجکل دیکھنے میں آیا ہے کہ مارکیز کا رواج زیادہ ہورہا اسکی سجاوٹ دل لبھاتی اور چراتی بھی ہے۔۔ کہیں بھی آپکو سادگی نظر نہیں آئے گی زمین سے لےکر مارکی کی چھت پھر دیواریں اور صوفے کرسیاں اسٹیج نیز ہر چیز ہی فینسی نظر آئے گی ایسا کیوں ہے۔۔۔۔اسٹیج اور اسکا بیک گراؤنڈ اس پر لاکھوں خرچ کیے جاتے ہیں دلہا دلہن کے لباس کے ہم رنگ۔۔ دائیں بائیں بڑے بڑے نفیس گلدان پیچھے پردے اور دلکش ڈیزائن اور ہم رنگ لائٹیں۔۔ ایسا سب صرف و صرف تصاویر و ویڈیوز بنانے کے لیے ہیں ہر تصویر کا بیک گراؤنڈ اچھا ہو بس یہی ہم سب کو لت پڑ گئی ہےکبھی گلدان کے پاس تصویر بنوائی جاتی تو کبھی اسٹیج پر ،کبھی دلکش پردے کے سامنے تو کبھی عالیشان کرسی پر بیٹھ کر۔۔ یہ تصویر کا فتنہ حضرت نوح کے دور میں شروع ہوا تھا نبی آخرزمان ؐ نے آکر اس فتنے کو ختم کیا حتی کہ آپ ایک صحابی کی شادی میں انوائٹ تھےانہوں نے وہاں تصاویر والے پردے لگا رکھے تھے آپ ؐ دروازے سے ہی لوٹ آئے کہ تصویر کی سخت حرمت تھی اور ہم آجکل شادی بیاہ کو تصاویر کے بغیرادھورا سمجھتے ہیں ہماری ساری تیاری ، سجنا سنورنا ،مہنگے و بڑے بڑے میرج ہالز اور مارکیز انکی سجاوٹ سب اس حرمت زدہ اور عذاب شدہ تصاویر کی مرہون منت ہے۔۔خدارا اس فتنے سے نکل آئیےنبیؐ اور صحابہ ؓ کے طرز کی شادیاں کریں سادگی اپنائیے جو دین کا حصہ ہے
#در


Post A Comment:
0 comments so far,add yours
ایک تبصرہ شائع کریں