"بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں‌"
ہاں یہ جملہ بس دل کو تسلی دینے کے لیے کافی ہے۔ مان لینا حقیقت میں تلخ بات ہے۔ آج کے جدید دور میں جدید لباس پہنے جدیدگھروں میں رہتے ہوئے جدید تعلیم کے حامل تو ہیں پر ذہنیت جدیدیت نہیں بن سکی۔ آج بھی ہم بیٹیوں کے بارے میں وہی سوچتے ہیں جو اسلام آنے سے پہلے عرب کے لوگ سوچ رکھتے تھے۔
بیٹی منحوس ہوتی ہے
کمزور ہوتی ہے
بےبس مجبور ہوتی ہے
اس پر خرچ زیادہ ہوتا ہے
اسکی شادی کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں
یہ سب اور مزید اور بھی خیالات رکھتے ہوئے ہم آج بھی بیٹی کی پیدائش سے ڈرتے ہیں۔پہلی اولاد بیٹی ہو یہ کسی کو گوارا نہیں ہوتا۔ہر کوئی بیٹا ہونے کی دعا دے گا۔ شاید ہم بھی کہیں نا کہیں عربوں کی طرح بیٹی کے پیدا ہونے سے ڈرتے ہیں۔ہاں پر دوسری اولاد کے لیے سب دعا دیں گے کہ اب بیٹی ہوجائے بھائی کی بہن آجائے۔مگرپھر بیٹا ہوجائے تو تسلیاں دینے لگ جاتے ہیں ۔جب تین چار بیٹے ہوجائیں تو بیٹی کی حیققی قدر معلوم ہوتی ہے۔

هم بیٹیاں مانگتے نہیں وه همارے لیے الله کی پسند بن کر آتی ھیں۔ بیٹا هم مانگتے هيں رو رو کر گڑ گڑا کر۔ وه نعمت بن کر آتے هيں

اور نعمتوں کی جواب دھی کرنی پڑے گی۔۔ ایک بیٹی کی پرورش پر جنت کی بشارت ھے

اور دس بیٹے پالنے پر بھی کوئی انعام نہیں۔۔ہاں مگر اگر یہ نیت ھو کہ میں بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کروں گا ۔ لیکن یہ نیت نہی ھوتی جب بیٹا مانگتے ھیں تو صرف ایک ھی بات ذہن میں ھوتی ھے کہ ھمارا سہارا کون بنے گا ۔شاید اسلیے بیٹی کم ہی مانگتے ہیں کہ وہ سہارا نہیں بنتیں اگلے گھر چلے جاتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ھے کہ بیٹیاں باپ سے زیادہ محبت کرتی ھیں ۔ بیٹوں کی نسبت ۔لیکن اکثر والدین بیٹوں کی پسند نا پسند کا خیال رکھتے ھیں لیکن بیٹیوں کی پروا نہی کرتے اور اکثر وہ تشنہ رہتی ھیں ۔ 
میرا اپنا تجربہ یہ ہے میری پہلی اولاد پر سب نے مجھے بیٹے کی ہی دعا دی میں بہت حیران ہوتی تھی کہ کوئی مجھے بیٹی کی دعا کیوں نہیں دیتا۔پھر ایک دن میں نے درس میں بیٹی کی اہمیت پر چند احادیث رکھیں۔

 محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی
(مشکوۃ شریف)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص کے یہاں بچی پیدا ہوئی اور اس نے جاہلیت کے طریقے پر زندہ درگور نہیں کیا اور نہ اس کو حقیر و ذلیل سمجھا اور نہ لڑکوں کو اس کے مقابلے میں ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا
(ابوداؤد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
جو لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تو وہ لڑکیاں ان کے لئے جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی
(مسلم)
ذرا رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ پر غور کیجئے کہ کیوں  آپ نےآزمائے جانے کا لفظ استعمال فرمایا؟ اس کی وجہ یہ ہےکہ لڑکیوں کی پرورش و پرداخت ایک بہت اہم ذمہ داری ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک امتحان و آزمائش کی حیثیت رکھتی ہےکہ کس طرح اس کا بندہ اس ذمہ داری کو نبھاتا ہے، آیا وہ ان کے ساتھ شفقت و محبت اور الفت کا برتاؤ رکھے گا؟  کیا وہ ان کی  صحیح تربیت کا نظم کرے گا؟

جس کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے تئیں محبت و شفقت کا رویہ اپنائے تو یہ لڑکیاں اس کو جنت میں لے جانے کا باعث ہوں گی
ایک اور روایت میں حضرت ابو سعدی خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے 3 لڑکیوں کی پرورش کی ، ان کی اچھی تربیت کی ، ان سے حسن سلوک کیا پھر ان کا نکاح کردیا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی (ابوداؤد)

بیٹی کی قدر کیجیے۔ اگر آپ کسی کو پہلی اولاد پر بیٹی کی دعا نہیں دے سکتے تو صرف بیٹے کی بھی مت دیں۔بلکہ یوں کہیں اللہ جو اولاد دے نیک صالح ہو
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours