خود احتسابی

کرونا وائرس کومحض ایک وبا کہیں یا اللہ کی طرف سے عذاب،تنبیہ یا آزمائش۔۔ ہر صورت میں یہ ہمارے لیے ایک مشکل اور بظاہر ناممکن صورت حال معلوم ہوتی ہے۔مسلم و غیر مسلم،مومن و منافق ہر کوئی اسکی لپیٹ میں ہے۔ کم علم رکھنے والے لوگ یہ کہیں گے کہ غیر مسلم کو اس دین پر لانے کے لیے اللہ نے انکو عذاب میں مبتلا کیا اور ہم مسلمان تو ہمسایہ ممالک کا چمکادڑیں کھانے سے وبا میں مبتلا ہوگئےمگر دورحاضر کے مسلم میرے خیال سے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ کی اس تنبیہ کوشعوری طور پر سمجھ لیں اور اپنے خیال وکردار کو مکمل یکسوئی کے ساتھ ایک اللہ کےحکموں کی طرف موڑ لیں۔
اگر ہم اپنے ارد گرد جائزہ لیں کہ اس وبا نےہر انسانی زندگی اور سوچ وکردار پر کیا اثر انداز کیا تو تین گروہ نظر آتے ہیں۔
ایک گروہ وہ ہے جو اللہ و اسکے رسولؐ کو حقیقی چاہنے والے اور قول و فعل سے اسکی اعلی شہادت دینے والے ،وبا نے ان پر یہ اثر ڈالا کہ انکا رجحان پہلے سےکئی گنا زیادہ اللہ اور اسکے رسول ؐ کی طرف ہوگیا۔اپنے آپ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ہدایت کے رستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہےہر گھڑی ان میں تبدیلی کاگہرا عنصر پایا جارہا ہےنماز میں خشوع،زبان کی پاکی،کردار میں مضبوطی،صدقہ خیرات کرنے میں وسیع قلبی،خوف آخرت۔۔۔رشتوں میں پاسداری غرض اس وبا نے انکے ایمان میں زیادتی ہی کی ہے۔
 دوسرا گروہ وہ ہے جو وبا کے خوف سے اپنے قول سے اللہ اور اسکے رسول ؐ کا تابع تو ہوگیا مگر اپنی عیش پرستانہ مادی زندگی کی قربانی سے بچتے ہوئے عمل سے ابھی بھی دور ہے۔ وہ حقیقی طور پر یہ چاہتا تو ہے اسکی زندگی بھی دینی طرز کی ہوجائےنمازکی بڑی حد تک پابندی کرتا ہےتوبہ و استغفار کی دو تین تسبیحات بھی نکال لیتا ہے۔شماروں پر آیۃ کریمہ کا ورد بھی جاری ہےساتھ ہی ساتھ یہ فکر بھی ستائے جاتی ہے ناجانے اس بار ڈرامے کی نئی قسط نشر ہوگی یا نہیں سر پر دوپٹہ رکھ کر کہیں سہیلیوں و کزنوں کی نظر میں حاجن نہ بن جاؤں ۔کچھ ایسی ہی فکروں نےاسکو ایسا باندھ رکھا ہے کہ عقل اسکی ابھی بھی یہ گوارا نہیں کرپارہی کہ اسے اپنی پہلی و آخری محبت جو اسکو مادی زندگی سے ہے کہیں چھوڑنی نہ پڑجائےاسلیے وہ اپنے اوپر نیک صالح لباس پہن کر جو ہرسال رمضان میں پہنتا ہےاور عید کا چاند دیکھ کر اتار دیتا ہے اللہ سے مستقل قولا اور عارضی فعلا مکمل معافی وبخشش کا طلب گار ہے۔اور جلد اس وبا سے جان چھوٹ جانے کاامیدوار بھی۔
 اب ایک گروہ رہ گیا جو اس وبا کے نام سے واقف ضرور ہے پر اسکو ایک ایسی بیماری جو صرف دوسروں کو لگ سکتی ہے مجھے نہیں لگ سکتی کی غلط فہمی میں مبتلا بےفکری کی زندگی گزار رہا ہے۔ اسکو یہ وبا ایک لطیفہ لگتی ہے اور اس پر بننے والے مزاحیہ پوسٹس و لطیفوں سے لطف واندوز ہوتا ہےجسے لگتا ہے چند دن بعد سب ٹھیک ہوتوجائے گا ہی تو پھر کیسی فکرلی جائے کہ بےفکری کوکسی گہرے کنویں میں خوامخواہ ڈبو دیا جانابڑی حماقت ہوگی لہذا وہ ویسا ہی رہنا چاہتا ہے جیسا اس وبا کی آمد سے پہلے تھا۔لاپرواہ،بےفکر،قول و عمل سے عاری انسان جو خبرنامہ سنکر حواس باختہ نہیں ہوتا بلکہ موبائل نیٹ سےدلچسپ و کچھ دل بدل پروگرامز دیکھ کراور پیٹ پوجا میں اپنے دن و رات گزارتے قرنطینہ سے محظوظ رہا ہے۔   یہ سب جائزہ لینے کے بعد یوں لگتا ہے ہم بھی بنی اسرائیل کی طرح تین گروہ میں بٹ گئے ہیں جن پر عذاب آیا تو وہی گروہ بچا جو اس گناہ و نافرمانی کی زندگی سے خود بھی بچا ہوا تھااور دوسروں کو بھی بچاتا رہا تھا۔باقی دو گروہ نیست ونابود ہوگئے۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں ہمارا شمار کس میں ہے۔

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours