ظلم پھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ظالم کو معاف کرتے جاتے ہیں اسکے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ ہی رکھتے ہیں جس سے الٹا نقصان ہوتا جاتا ہے معافی وہاں پہ ہوتی ہے جہاں شرمندگی ہو پرجہاں ہٹ دھرمی ہو بات بات پہ لڑائی جھگڑا و فساد ڈالا جائے اپنی چالوں و سازشوں سے ہمارے خلاف دوسروں کو بھڑکایا جائے جھوٹی سچی لگاکر معصوم بن کر ہر وقت تنقید کا نشانہ ہی بنایا جائے وہاں ہر بات پہ معاف کرنے سے فساد پھیلتا جائے گا کبھی زندگی میں سکون نہ آئے گا اسکے گناہ میں ہم اضافہ ہی کرتے جائیں گے معاف کرکے اپنی تو آخرت بچالیں گے پر اسکو جہنم میں جھونک دیں گے قرآن میں بدلہ لینے اور کسی کو درست راہ پر لانے کے لیے ہی شاید یہ حکم ہے کہ جان کے بدلے جان، ناک کے بدلے ناک، آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان نیز ہر زخم کا بدلہ ہےاور جو زخم دل پر لگا ہو اور اتنا شدید ہو کہ انسان بیان بھی نہ کرسکے اور اندر ہی اندر کڑھتا جائے اور ہوبھی اپنے کسی عزیز کی طرف سے تو کیا اسکا بدلہ نہ ہوگا۔۔۔ کبھی کسی کو راہ راست پر لانے کے لیے بھی بدلہ لینا پڑتاشاید وہ بدلہ نہیں ہوتا بس اسکو سمجھانا اوراس فعل سے باز رکھنا مقصود ہوتا ہے تاکہ زندگیوں میں سکون آجائے اور اگلہ بندہ بھی ظلم کرنے سے رک جائے اور اسے نصیحت مل جائےکیونکہ جب ہماری چپ سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے تو پھر قدم اٹھانا ہی پڑتا ہے یوں جم کر کھڑے رہنے سے ساری زندگی نقصان رہے گا

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours