25 نومبر کو عورتوں پر تشدد کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔ہر پوسٹ عورت پر مار پیٹ کی داستان بیان کررہی ہے۔مرد کےاندر چھپے تشدد پسندکردار کو کھول کررکھ رہی ہے۔ہر طرف موضوع بحث عورت پرظلم و زیادتی ہے۔جس میں سرفہرست شوہر کا بیوی کو مارنا ہے۔ ہمارے ملک میں کئی گھرانوں میں یہ معمول کی بات ہے کہ بیوی جو اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے اپنے شوہر کے گھر آجاتی ہے، وہ شاید کسی ڈاکٹری نسخے کے مطابق اپنے شوہر سے باقاعدگی سے مار کھاتی ہے وجہ یا وجوہات کئی ہو سکتی ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ بیوی کو مارنے سے بیوی کنٹرول میں بھی رہتی ہے اور اس کی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مردوں کی شان اور مردانگی ہے۔

شریعت اس کی سخت مذمت کرتی ہے

صحیح بخاری نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ شکایت تھی کہ وہ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں تو رسول اللہ نے انہیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا کہ "کتنے شرم کی بات ہے کہ لوگ عورتوں کو مارتے بھی ہیں اور پھر ان سے مباشرت بھی کرنا چاہتے ہیں"

تشدد مختلف قسم کے ہوتے ہیں جسمانی،ذہنی اور روحانی۔

جنسی تشدد جس قدر شدید ہے اس سےکہیں زیادہ شدید تروخوفناک ذہنی تشدد ہےطنز و طعنوں کےنشترچلاکرروح تک چھلنی کردی جاتی ہے۔ذہنی تشدد جنسی تشددکی ابتدا سمجھ لیں جب زہن کوٹارچرکرنےسےکام نہیں چلتاتو جسم نشانہ بن جاتاہے۔مرد بیوی پرپہلےزہنی دباؤ ڈال کر دباتا ہےاسےاحساس دلاتا ہےکہ جتنی غلط تم ہو اتنا کوئی نہیں۔اسے باور کرواتاہے کہ تم بعد کی آئی پہلے سے بنے رشتوں کو اجاڑنے و کھونےکی ذمہ دار ہو۔اسے یہ سبق یاد دلائے رکھتا ہے کہ شادی اپنےلیے نہیں گھروالوں کےلیے کی تھی۔ماں کی خوشی میں شوہر کی خوشی،بہن کی ہنسی میں شوہر کی ہنسی،بھائی کے انسو میں شوہر کے آنسو،باپ کی ہمدردی میں شوہرکی ہمدردی گویا عورت کی شادی ایک وقت میں پانچ پانچ لوگوں سے ہوتی ہےجب بیوی انہی رشتوں کی سازشوں اور حسد میں پھنس کر ناکام ہوجاتی ہے توپھرشوہربےقابوہوکر ہاتھ پاؤں کے نشان بیوی کےجسم پر چسپاں کرتارہتاہے۔میں ان رشتوں سے انکاری نہیں نہ یہ کہنا چاہ رہی کہ انکی خدمت و ساتھ نہ ہو بس شوہر و بچے اور خوشحال گھرانہ ۔۔خلاصہ یہ ہےکہ میاں بیوی کے رشتے کے بندھنے اور ٹوٹنے کی بنیاد یہ رشتے نہیں ہیں۔میاں بیوی کی محبت کی بنیاد کوئی بھی رشتہ نہیں ہے۔اللہ کے نام پر جڑا یہ رشتہ ۔۔ان کا آپس کا اعتماد،مان،بھروسہ،یقین کامل ایک دوسرے سے خوش دلی،ایثار،خدمت،خیال ہی رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔یہ تعلق کسی کا محتاج نہیں۔کتنے ہی گھر اجڑے اور اجڑ رہے ہیں روزانہ کوئی نہ کوئی قصہ سننےکو ملتا اور آنکھیں وہ منظر دیکھتی ہیں کہ شوہر گھروالوں کی باتوں میں آکر بیوی پر جسمانی و ذہنی تشدد کرتاہے۔ننانوے فیصد کانوں کے کچے مرد بیوی پر بداعتمادی کا مظاہرہ کرتے گاجرمولی کی طرح چھیل کررکھ دیتے ہیں اور کچھ مرد طعنے،طنز،الزام تراشی سے ذہنی تشدد کرتےرہتے ہیں۔ابھی کل ہی ایک دوست کہنے لگی شوہر چار سال سے باہر ہے گھروالے میرے خلاف نہ جانے کیا کچھ کہتے ہیں کہ وہ فون کرکے بس ایک ہی بات کرتے ہیں کہ اپنی امی گھرچلی جاؤ میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا۔یہ اور اس طرح کے بے شمار حادثات روزانہ کا معمول ہیں۔جو مرد عورت کی عزت کا محافظ ہو وہ ہی غدار نکلے تو عورت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہ جاتا۔

جسم کے زخم تو جلدی بھرجاتے ہیں پر دل پر لگے زخم کبھی نہیں بھرتے چاہے مرد محبت کابیچ دوبارہ بوکرخدمت و خیال کےپانی کا چھڑکاؤکرتا رہے

غم دل کی زباں اہل تشدد کم سمجھتے ہیں

نہ دل کو دل سمجھتے ہیں نہ غم کو غم سمجھتے ہیں

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours