ماں وہ ہستی ہے جس کی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔

جب تک خود ماں نہ بنو ماں کی ممتا اور انکی قربانیوں کا نہ اندازہ ہوپاتا ہے نا ہی احساس۔۔جب سے میں ماں بنی تو جان پائی کہ ہماری ماں نے ہمیں کس قدر مشکلات سے پالا۔ بچپن تو ابو کے زیرسایہ خوب پھلاپھولا ۔مالی حالات قدرے اونچے تھے۔امی نے بازار تک کا بھی کبھی رخ نہ کیاتھا۔۔سبزی کے بھاؤ تاؤ کیا ہوتے کیسے کرتے مکمل ناواقف تھیں۔اصل امتحان تو ابو کے بیرون ملک جانے سے شروع ہوا۔ بیٹا نہیں تھا چار بیٹیاں پالنا اور بہترین تربیت کرنا دوست بن کر وقت گزارنا، تمام ضروریات پوری کرنا باپ اور بھائی دونوں کی کمی کا احساس تک نہ ہونے دینا ۔۔آجکل کے نفسانفسی کےدور میں ایسی دانا و حکیم ماں قسمت سے ملتی ہے۔ پھر تنگی کا دور بھی آیا جب مالی حالات قدرے نیچے آگئے کہ مجھے یاد ہےایک سبزی کئی کئی دن کھانی پڑتی، سکول کے لیے یونیفارم اور جوتے پھٹ جاتے تو وہی بار بار سی کر پہننے پڑتے۔دوسرے بچوں کی طرح ہماری خواہشات پوری نہ ہوپاتیں دل کے کئی ارمان آنسو میں بہہ جاتےمگر امی کی تربیت نے خواہشات کے نہ پورے ہونے کا احساس تک نہ ہونےدیا کچھ اس طرح تربیت کی کہ صبرشکر کا بیچ ایسا بویا کہ شادی کے بعد اب تک نہ مرجھایا ۔ کہتے ہیں کہ محبت کی ابتداءا ور انتہاء کو دنیا میں ناپنے کا اگر کوئی پیمانہ ہو تو وہ صرف اور صرف ایک لفظ میں مل سکتا ہے اور وہ لفظ ہے "ماں"... اللہ نے بھی خود کو بس ایک ہی رشتے سے تشبیہہ دی وہ ہے "ماں"کہ میں سترماؤں سے بڑھ کرپیار کرتاہوں۔

ہم کیسےکہہ سکتے ہیں ماں اپنی اولاد سے زیادتی کرگئی۔۔ مجھے اپنی ماں پر فخرہے ہمیں باپ بن کر پالا۔چاروں بہنوں کوایک جیسا پیار دیا۔ کبھی کسی میں فرق نہ کیا۔ سب کو ہمیشہ ایک ساتھ دیکھنا چاہتی ہیں۔گھر میں کوئی منہ بناکر بیٹھ جائے توفورا شامت آجاتی کہ یوں رویہ کیوں اپنایا ہوا۔۔ امی کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی کہ غم جتنے بھی ہوں آپس میں ہنسی خوشی مل بیٹھو۔۔یہ مائیں ہی تو ہیں جو سب کو جوڑ کر رکھتی ہیں۔۔ یاد ہے خود بھوکی رہ جاتی تھیں پر ہم چاروں کےلیے کچھ نہ کچھ بچالیتیں۔۔ اپنا کپڑا تو سالوں بعد کبھئ بنواتیں۔کوشش ہوتی بیٹیوں کے بن جائیں۔۔ کبھی اکیلے کوئی چیز نہیں کھاتیں،ہضم ہی نہیں ہوتی ۔۔ چاہے چیز سوکھی پڑ جائے پر فلاں بیٹی اٹھے گی وہ کھالےگی۔گھر میں اپنی مرضی چلانا تو جیسے آتا ہی نہیں۔جس بیٹی نے جوکہہ دیا بس وہی کرلیتیں۔صفائی ستھرائی کی ایسی دلدادہ کہ چاہتی ہیں کہ کوڑاکرکٹ بھی صاف ہو۔گھر میں نظم و ضبط کی اعلی مثال کہ کوئی مہمان اچانک بھی آجائے تو گھر ہر وقت صاف چیزیں اپنے اپنے ٹھکانے پر۔۔۔یہی عادت ہم چاروں میں بھی پیوست کردی کہ سب دیکھ کر گواہی دےسکتے کہ یہ رانی کی بیٹی گھر میں بےترتیبی کہان ہوسکتی۔اپنے فیصلےصادر کرنا تو جرم سمجھتی ہیں ۔حتی کہ اپنی پسند کاکھانا بھی نہیں بنواتیں کہ جو جس بیٹی کوپسند بس وہی پکےگا۔ماں اود خود غرضی۔۔ دو متضاد الفاظ،ماں اور لالچی۔۔ وہ ماں تو ماں ہی نہیں جو اپنے لالچ میں رہے۔۔ڈانٹ دینا پھر خود ہی بلانے لگ جانا میری ماں کی اعلی ظرفی ہے۔ماں کی ڈانٹ میں بھی پیار اور بھلائی چھپی ہوتی ہے وہ کبھی دل سے نہیں ڈانٹتی۔ ماں کبھی کسی کو دل سے بددعا نہیں دیتی جس نے ماں کا دل دکھایا گویا وہ دنیا میں نامراد آیا اور نامرادہی آخرت کو لوٹا۔امی ہمیشہ چاہتی ہیں گھرکاماحول خوشگوار رہے۔مگر اولاد جب سیانی ہونے لگتی ہے وہ ماں سے زیادہ بڑھنے لگ جاتی ہے سمجھتی ہے امی کو تو کسی بات کا پتہ ہی نہیں۔۔ ماں کو ڈانٹنا،جھڑکنا،جھوٹا قرار دینا، بددل ہونا،اونچی آواز سے بات کرنا،چھوٹوں جیسا سلوک کرنا،یہ سب کرنا اولاد اپنا حق سمجھنے لگتی ہے۔ جس تکلیف سے میں گزررہی امی کو کیاپتہ۔۔۔ آہ۔۔ اولاد کو کیا پتہ کانٹا اولاد کو چبھے تو درد ماں کوہوتی ہےآپ میں سے جوجوماں ہے وہ اس کیفیت کوباخوبی جانتاہوگا کہ ماں وہ نجومی ہے جواولاد کی خاموشی اور چہرے کودیکھ کرجان پاتی کہ میری اولاد کس تکلیف میں۔۔ ہماری امی کوتو خواب آجاتے کہ میری فلاں بیٹی کےحالات کیاہونے۔۔ ماؤں کوتوالہام ہوتے ہیں۔۔۔ابوکےجانےکےبعد جس طرح ہمیں سنبھالا مضبوط بنایا ہمیں اپنے اپنے گھروں کاکیاکہ آج عزت کی زندگی گزار رہی ہیں یہ بس ایک ماں ہی توکرسکتی ہے۔ابوکےجانےکےبعدسب نےکہادوسری شادی کرلو پر نہیں کی کہ بیٹیاں یہ نہ سمجھ لیں امی ہمیں بھول گئیں ہم پر سوتیلے باپ کاسایہ ڈالنے کی بجائے خود باپ بن کر پالا ۔بیٹا نہیں ہواتو ہمیشہ یہی کہتیں کہ میرے چاروں دامادمیرے بیٹے ہونگے ،الحمدللہ ایک سے بڑھ کرایک بیٹاداماد کی صورت میں پایا۔اور پھر تین نواسے۔۔وہ بھی تو بیٹے ہی ہیں۔۔

بیٹیوں کی احسن تربیت کا ہی صلہ ملا کہ اللہ نے اپنے دین سےجوڑدیا۔جماعت کی کارکن بن گئیں۔دعوت وتبلیغ کےمیدان میں مجاہدہ کاروپ رکھتی میری عظیم ماں۔۔ماؤں کی قدر شادی کے بعد ہوتی یا انکے دنیاسےچلےجانےکےبعد۔مائیں موجود ہوں تو آجکل کی اولاد جوتی کی نوک پررکھتی۔۔ اور پھرامید رکھتی انکی اپنی اولاد ان سے بہترین سلوک کرے۔۔۔کیسے۔۔۔ ادلےکابدلہ تو ملتا ہی۔۔ ویسے بھی ماں کا دل دکھانا بدتمیزی بدلحاظی کرجانا ایسا گناہ ہے جسکی سزا مرنے سے پہلے پہلے مل جاتی ہے۔۔میں نے کتنوں کو دیکھا کہ زندگی میں ماں کی قدر نہ کی اور مرنے کےبعد ماں ماں کرتے رہے۔

اے ماں تیرا پیار چاند کی طرح شفاف ہے

 اے ماں تیری دعائیں ہمارے لئے زندگی کا کُل سرمایہ ہیں

 اے ماں تو گھر کی روشنی ہے

 اور ہمارے لئے جنت کا راستہ ہے

امی کی شان میں تو یہ چند باتیں ہین میری امی تو سراپائے نور اور مثالی ماں ہےلکھنےبیٹھوں تو رجسٹرکےرجسٹر بھر جائے۔

امی کو اکثر یہ دعا مانگتے دیکھا کہ "مجھے تو ابھی کچھ نہ ہو میں بیٹیوں کی شادی کرلوں میں مرگئی میرے بعد میری بیٹیوں کا کیاہوگا" تب اس دعا کی اتنی سمجھ نہ آتی تھی کہ امی ایسی دعا کیوں کرتیں۔اب جب میں ایک بچے کی ماں بنی تو احساس ہوا ہاں کتنا ضروری ہے خود کےلیے صحت و زندگی کی دعاکرنا اگرچہ میرے بچے کا باپ موجود ہے پر ماں جیسی ہستی تو بس ایک ہی ہوتی نا سوتیلی مائیں بھی سگوں جیسا پیار کہاں دےسکتیں بھلے کتنا ہی خیال رکھتی ہوں

ایسے بھی واقعات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہمیں پڑھنے کو ملتے ہیں جس میں بیٹے ماں کو جائیداد کیلئے قتل کر دیتے ہیں۔ بد نصیب اولاد ماں کو معاشی بوجھ سمجھ کر سڑک کناروں یا پھر اولڈ ہومز میں چھوڑ جاتے ہیں۔ موجودہ دور نفسا نفسی کا ہے، اس میں اب ہم سب اپنی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور افسوس کا مقام ہے ہم دین اسلام کے فرائض سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں۔ ان میں سے ایک والدین سے حسن سلوک بھی ہے کہ مغرب کی اندھا دھند تقلید میں ہمارے ہاں بھی اولڈ ہاوس بن رہے ہیں۔ والدین کو اولاد ان کے گھر سے ہی نکال رہی ہے یا خود ان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتی ہے۔ اور اس بے حسی، ظلم پر ذرا بھی شرمسار نہیں ہے۔ موجودہ عہد میں والدین سے بد سلوکی، بد زبانی، طعنے و دل دکھانے والی باتیں تو ایک معمول بن چکا ہے۔ اولاد اتنی مصروف ہو گئی ہے ان کے پاس ماں باپ کے پاس بیٹھنے، باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے۔

قراٰن مجید میں فرمان عالیشان ہے:

ترجمہ”اگر وہ دونوں (والدین)یا ان میں سے ایک(ماں یا باپ) تم کو بڑھاپے کی حالت میں ملیں تو ان کو اف تک نہ کہو،ایسا نہ ہو تمہارے تمام اعمال ضائع ہو جائیں اورتم کو خبر بھی نہ ہو"

نبی پاکؐ کا فرمان ہے:

”وہ بدنصیب ہے جس کو والدین یا ان میں سے ایک بڑھاپے کی حالت میں ملیں اور وہ جنت سے محروم رہے


جن کے پاس یہ نایاب ہیرے موجود ہیں انکو چاہیے انکی قدر کریں۔ماں چاہے کافر ہو اسکے آگے اف تک کی بھی اجازت نہیں۔۔ اللہ تعالی سب کی ماؤں کو لمبی سعادت والی زندگی عطاکرے۔آمین۔

 

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours