آجکل کی ماؤں میں وہ بات ہی نہیں جو ہماری امیوں میں ہوتی تھی۔صبح صبح ہی شورشرابہ چیخ وپکار۔۔مجھے یاد ہے بچپن میں امی جب اسکول کےلیے جگایا کرتیں تو ایساپیاربھرااورنرم اوردھیما انداز اپناتیں کہ آنکھ کھلتے کھلتے پھربند ہوجاتی۔سستی جانےکانام ہی نہ لیتی۔کبھی ڈانٹ کریابیزاری سے جگایا ہی نہیں۔اونچی آواز رعب دبدبہ۔۔۔بےدردی سے۔۔ہرگزنہیں۔۔۔امی کےہرانداز میں بھی رحمانیت ہوتی جگانا بھی کچھ ایسے جیسے پوچھ رہی ہوں کہ اسکول جانےکاتمہارااپناہی فیصلہ میرےمیں حوصلہ نہیں کہ پیاری نیند سےجگاؤں😁۔اٹھو۔جانا ہے یا نہیں۔ نہیں جانا۔۔ نہیں جانا۔۔نہیں جانا۔۔ اور چوتھی بار میری آواز ہوتی نہیں جانا 🙆
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ : اے میرے رب! ان دونوں (والدین)پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔
Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours