ماں باپ سے کھبی بھی حساب نہ کرنا ورنہ تم پہ رزق کے سارے دروازے بند کر دیئے جائیں گے۔بلکہ انکی چھوٹی موٹی چیزوں کا خیال رکھناان کے کپڑے،بستر،دوائی کھانے کے اوقات،آرام کے اوقات۔۔ان سے مانگنے کے بجائے انکو دینا۔جب تم خود کمانے کے قابل ہوجاؤ تو ان پر بوجھ نہ بننا۔انکو لاکردوکبھی کوئی پھل ،کبھی جوس،کبھی دوائی،کبھی پہننے کو جوتی۔۔ضروری نہیں تم مہنگی سے مہنگی چیز لاکردو ۔ایک سو روپے کی چیز جو محبت و خلوص سے دی ہو لاکھ درجے بہتر جو ہزار کی چیز بیزاری سے محض جتلانےدکھاوےکو دی ہو۔۔ کبھی کچھ لاکردو تو کہنا امی/ابو یہ آپکےلیے۔یقین جانو والدین کو اس وقت جو خوشی ہوگی۔والدین کی نظروں میں تمہارا جو مان بڑھے گا اور عزت ہوگی وہ تمہیں جنت تک پہنچادےگی۔۔

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours