خوبصورت موسم اور طویل راتوں والانومبر کا آغاز ہوتے ہی نہ جانے کہاں سے سرد آہیں بھرتے اور اپنی دل سوزی اور آہ زاریوں سمیت اپنی ناکام محبت کا الزام نومبراور کبھی دسمبر پر دھرتے، ناکام عاشق ہر کونے سے برآمد ہوکر موسم کے ساتھ وابستہ اپنی یادوں پر کڑھتے اور زندہ دل افراد کو جلاتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مزاجوں پر حاوی ہوجانے والی سرد مہری شاعری بھی اتر آتی ہے،آج مجھے ان ناکام عاشقوں سے کچھ ہمدردی محسوس ہوئی یقینا موسم انسانی نفسیات پر لازمی اثر انداز ہوتاہے سردہوا جب جسم کو چھو کرروح تک کو لرزا کےرکھ دیتی ہے تو کسی گرم احساس کی ضرورت پڑتی ہے سرد موسم کی خوشبو کسی دور خوبصورت ماضی کی طرف دھکیل دیتی ہےرم جھم بارش وجود کو بھگوتی ہوئی بچپن کے کسی سہنرے پل کو روشن کردیتی ہے لاہور میں سرد موسم نہایت کم عرصےکےلیے آتاہے اور تیزہوا کےجھونکے کی طرح اڑ جاتا ہے۔ یہ ٹھٹھرتی تیز ہوا سردیوں کی آمد کی دستک گھرگھرکےدروازے اور کھڑکیاں بجاکر دےرہی ہےاس پیغام کے ساتھ کہ اداسیوں کی شام اور خاموش راتیں تمہاری زندگی کا حصہ بننے لگی ہیں ان خاموشی سے ان گنت یادیں وابستہ ہیں میں جب بھی نومبر دسمبر کی شاعری کہیں پڑھتی تو سوچتی ناجانے یہ عاشق عشق کے مارے کیوں انہی دو مہینوں کو کوستے ہیں توآج محسوس ہوا یہ بچارے کہیں نا کہیں سچے ہی ہیں بچوں کےسونے کے بعد وقت دیکھا توسوا بارہ ہوچکے تھے میاں صاحب کمپیوٹر پر براجمان سوشل میڈیا کی دنیا میں گم تھے سوچا زرا باہرکاموسم چیک کرلوں  بدلتے موسم کو دیکھنے جب بالکونی کا رخ کیا تو اپنے آس پاس تمام اونچے اونچے بلند گھروں میں خاموشی پائی،کسی گھرکی بالکونی چمک رہی تو کسی کےکمرے کی مدھم روشنی پردے سے چھنک کرباہرآرہی۔ آج تمام بچے بھی گھروں میں جلد ہی گھس گئے ورنہ اس وقت تک توگلی میں کھیلتے بچوں کی آوازیں بیڈ روم تک آرہی ہوتی تھیں ۔آسمان پر نگاہ ڈالی سرخ اور سفیدی کے ساتھ بارش کی آمد کا پیغام دےرہا تھا۔ دور سے ٹریفک کی الجھتی آوازیں کانوں کو سنائی دےرہی تھیں جس میں کبھی ایمبولینس کی آواز آتی تو دل دہل جاتا۔ یوں ہی سرد ہوا کا مزہ لیتے لیتے ماضی میں قدم رکھا ہی کہ ایک ایک کرکےتمام خوشگوار واقعات نظروں سے گزرنے لگے وہ وقت جب چھوٹے تھے سردیوں کی آمد مونگ پھلی سے ہوتی تھی کمبل لےکر اس پر گھربنانا رستے بنابناکر کھیلنا اور مونگ پھلی کھاتے تمام کمبل کو اسکے چھلکوں سے بھردینا۔رمضان میں سحری بستر پر ہی ملتی ایک ہاتھ اندر ایک باہر جس سے پوری سحری کرلیتے۔۔ سکول جاتے ہوئے پورا رستہ ہاتھوں کو ایک دوسرے میں دبوچ دبوچ کر منہ کی پھونک سے گرم کرنا۔۔ ایک اور پل دماغ سے ٹکڑایا خاندان میں کسی شادی پر تمام کزنز کا چھت پر چپکے چپکے جانا اور یخ بستہ سرد موسم کا مزہ لینا گپیں لگانا اور کسی کزن کا چپکے سے پیچھےآجانا اور آکر کہنا کہ فلاں بڑے نےآپ لوگوں کو چھت پر آتےدیکھ لیاہےپھرجووحشت طاری ہوتی تھی خصوصا ان پر جو کزن کزن منگیتر ہوتے تھے کہ بڑا یہ نا سمجھ لے ملاقات کےلیے گئے کیوں کہ تب بڑوں کو یہ بات سخت معیوب لگتی تھی کہ منگیتر آپس میں بات چیت کریں جب کبھی کرنی پڑ جاتی تو پورے کزنز کا گروپ ساتھ ہوتا کہ اکیلے ملنے کا تصور تب کہیں نہیں پایا جاتا تھا ۔۔پھرسانس کو روکتے چپکےچپکےنیچے اترجانا۔۔ وقت کتنی جلدی بدل گیاآج لڑکالڑکی میں شرم و حیاء تورہی نہیں کچھ بڑوں کےنزدیک بھی یہ عام بات ہوگئی ہے۔وقت پرلگاتا اڑ رہا ہے آج ہم سب شادی شدہ اور والدین بن چکے ہیں آج رابطے کچے ہوگئے ہیں انٹرنیٹ ہاتھ میں آنے کے باوجود دنوں بیت جاتے بات نہیں ہوتی۔ تب دور رہ کر بھی ایک دوسرے سے آگاہی رہتی تھی۔ تب دل کتنے سچے ہوتے تھے ایک دوسرے سے سچی محبت ہوتی تھی آج وقت کتنا بدل گیا وفا نام کی چیز جائز رشتوں میں بھی نہیں ملتی۔ تب دھوکا دینا سنگین جرم بن جاتا تھا ساراخاندان ملامت کرتاتھاآج دھوکہ دینا ایک معمولی بات ہے کوئی پس پردہ ایک دوسرے کو دل جلا رہا ہو سمجھاجاتا ہے اسے کیا پتہ چلنا۔۔ تب زبانیں سچ بولتی تھیں آج سچ بولنے والا ہی ہررشتے میں مجرم بن جاتا ہے۔تب اعتبار کیاجاتا اور اسکا سبق دیاجاتا تھا آج اعتبار کی دھجیاں بکھیر کر فخر کیاجاتا ہے۔ تب سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا ہی کہتے تھے آج جھوٹا جیت جاتا ہے سچااپنی صفائی ہی پیش کرتا رہ جاتا ہے۔تب کانوں کا کچا کوئی نہیں ہوتا تھا آج آسانی سے ایک دوسرے کے کان بھرے جاتے ہیں تب رشتوں پر مان ہوتا تھا ایک دوسرے کی عزت ہوتی تھی آج عزت ذلت ایک ہی بندے کےہاتھ میں ہے وہ سب کو کہےگا اسکو عزت دو توباقی بھی دیں گے ورنہ سب ملکرایک ہی بندے کوذلیل کرتے ہیں۔۔ تب میاں بیوی کے بیچ کوئی پھوٹ نہیں ڈال سکتا تھا طلاق کا لفظ کبھی بڑوں میں سنا ہی نہیں تھا آج کوئی اس رشتےکوخوش دیکھ ہی نہیں سکتاایک دوسرے سےبدگمان کرکرکےایک دوسرے کی نظرمیں مجرم بناکررکھ دیاہے تب ہررشتہ بےغرض ہوتاتھاآج ہر رشتہ مقصدکےتحت جی رہا ہے تب ایک دوسرے سے تحفظ ملتا تھا آج سب سے زیادہ اپنے قریبی رشتے سے ہی ڈر لگتا ناجانے یہ ساتھ دے گایا نہیں۔۔ آج اندر ہی اندر سب کو ایک دوسرے کی بےوفائی کا دکھ کھارہا ہےمحبتیں ختم ہوگئی ہیں ساتھ مجبوری بن گیا ہے۔سب خوش رہنے اور خوشگوار تعلق کا دکھاوااور بہت دکھاوا کررہے ہیں۔وقت وہ نہیں رہا اورہم بھی وہ نہیں رہے۔۔عزت،اعتبار،سکھ چین،بھروسے کے متلاشی ہم خالی لوگ ہوگئے ہیں۔۔۔

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours