احساس ذمہ داری

کوئی بھی کام موڈ سے نہیں ہوتا فکر اور ذمہ داری سے ہوتا ہےاگرآپ کےاندر احساس ذمہ داری ہے تو آپکاضمیرجاگاہواہےآپ بہترین انسان ہیں۔اگر ذمہ داری کا علم تو ہو، لیکن اس کا احساس نہ ہو یا یہ بھی ہو ،لیکن پھربھی ڈھیٹ بن کر انجان بنے رہناایک نہایت غیرذمہ دارنہ فعل ہےاگرآپکوباربارکسی کام کےلیےذمہ داری کا احساس بھی دلایا جائے آپ وہ کام بےدلی  سےکربھی لیں پھربھی آپ ذمہ داروں کی لسٹ میں شامل نہیں ہوسکتے۔کیونکہ کسی بھی ذمہ دار کو کہہ کرکام نہیں کروایا جاتا۔اسکو خود پتہ ہوتاہے کہ مجھے یہ کام کرنا چاہیے۔اپنےاپنےحصے کا کام کیجیے وہ بھی احسن طریقے سے نا کہ ہربار احساس دلایاجائے اور ڈنکےکی چوٹ پر ہی کام کروایا جائے۔ہرشخص اپنے اپنے کام کا ذمہ دار ہے آپ گھرکےبڑے ہیں تو نیچے سب کے متعلق آپ سے پوچھاجائےگا۔آپ کی ذمہ داریوں اورکاموں کے متعلق کہ کس کس کام کو خوشدلی سےکیااور کس کس کام کو بےدلی سے۔ہمارے ہاں عمومی رواج پاگیا ہے ایک شخص ہی ذمہ دار بنتا ہے چایے بڑاہویا چھوٹا۔ باقی سب بیٹھے رہناپسند کرتے ہیں بعض اوقات جوکام بڑے کےکرنے والے ہوں وہ چھوٹا احسن طریقے سے کررہاہوتا ہے اورجو کام چھوٹوں کے ہوں اسے بڑا اداکررہا ہوتا ہے۔یہ نہایت غلط طرز زندگی ہے ۔کم از کم بڑے کو اپنے کاموں سےآگاہی ہونی چاہیے کہ وہ کسی پربوجھ نابنے۔ مل کر کام کرنےمیں ویسے بھی برکت ہوتی ہے ویلے بیٹھ کر کھانے سے خالی موٹاپا ہی آئےگا😏۔ اس لیے مل جل کرکام کریں اور اپنے اپنے حصے کا کام کریں۔ایک دوسرے پربوجھ نا بنیں ۔کہ ہرشخص اندر ہی اندر آپ سے اکتایا ہو۔ شب بخیر🛌😴

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours