دو دن ڈھیر ساری یادوں کےساتھ رخصت ہوئے،جب پتہ چلا ورکشاپ کاانعقاد ہونےجارہا ہے تو یہ کام پہاڑ جیسالگ رہاتھا سب ٹیم کی محنت و کوشش اور ہماری نہایت اچھی مہربان نگران میڈیاسیل وسطی پنجاب ماریہ ڈار کے بہت ہی برداشت اور تعاون کی بدولت ہی ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری سرانجام دےپائےایک وقت میں تینوں کمیٹیوں آئی ٹی،حریم ادب،نشرواشاعت کےکاموں کودیکھنا اور ان تمام ممبران کاچھوٹی چھوٹی بات ایک ایک کام پیاری باجی سے پوچھ کر کرنا جواب میں ہمیشہ ہی طرح شائستگی ہی پائی گئی جس سے کام کرنےکااورحوصلہ ملتاگیا،داخلی راستوں،ہال،طعام گاہ،رہائش گاہ کوسجانےسنوارنےاور دیگرامورکی انجام دہی کےبعد ورکشاپ کےدن کاانتظاربڑھتاگیا اسی پریشانی میں نیند بھی آنکھوں سے غائب ہوگئی کہ کل سب کام احسن طریقے سے ہوجائیں کسی پریشانی کاسامنا ناکرناپڑے،یہ اجتماعیت کی برکات ہی ہوتی ہیں کہ صبح ہال میں داخل ہوتے ہی سب کام آسان لگنے لگے،وسطی پنجاب کے15اورشمالی پنجاب کے 12اضلاع کی آمد کاسلسلہ شروع ہوا توساتھ کراچی سےآئےخاص مہمانوں(مرکزی ٹیم) سے ہال کی رونق دوبالاہوگئی۔

ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید،ڈائریکٹر میڈیا سیل عالیہ منصور،سیکریٹری اطلاعات فریحہ اشرف، نگران شعبہ آئی ٹی سعدیہ حمنہ،صدر حریم ادب پاکستان عالیہ شمیم کےجانداراوردلچسپ پروگرامات سے شرکاء کےعلم میں اضافہ ہوا۔مرکزی آئی ٹی ٹیم ممبر خالدہ شہزاد کی canva پروکشاپ نے حاضرین محظوظ ہوئے۔ورکشاپ میں بہت سارے رنگ زندگی میں بھرنےکےلیےملےمیڈیاصرف انجوائمنٹ ہی نہیں  یہ حق و باطل کاایک وسیع میدان ہے جس میں حق والوں نےحق کا پرچار کرناہے اور باطل کےدلدادوں نےباطل کافروغ کرناہے یہ اب آپکی چوائس ہےآپ کونسا راستہ چنتے ہیں۔

ورکشاپ کا اختتام اللہ کی مدد سےاحسن طریقےسےسرانجام پایا۔مرکزی میڈیاسیل نگرانات سےپہلی طویل خوشگوار ملاقات تھی مرکزی نگران کا نام سنتے ہی آپ کےذہن میں ایک خاکہ بن جاتاہوگاکہ بارعب شخصیت اپنےآپ میں رہنےوالی،جن سےکوئی سوال کرتے بھی ڈرتاہو نہیں ہرگزنہیں ۔۔نہایت ملنسار بےتکلف انداز،عام کارکن کواہمیت دینے والی نہایت عاجزانہ رویہ ،، عالیہ منصور باجی اورسعدیہ حمنہ باجی کامیری طرف خود چل کرآنا گرمجوشی سےملناجہاں مجھے شرمندہ بھی کرگیاکہ اتنی بڑی شخصیات خودملنےچلی آئیں وہیں ایک لیڈراورایک عام کارکن کےگیپ کوختم ہوتےدیکھ کرجماعت اسلامی پربےحدپیار آیا کہ یہی توواحدجماعت ہے جس میں ایک لیڈر اور ایک کارکن کےدرمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا بےلوث تعلق ہوتاہےنادلوں میں گلے رہتے ناکوئی ایک دوسرےسےشکوےکرتا ہےیہی وہ رشتے ہیں

جو قیامت کےدن بھی برقراررہیں گے جن کی بنیادتقویٰ پرہوگی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اوراللہ کے دین کےلیے ایک دوسرے سے دوستی کی ہوگی

جنہوں نے دین کےرشتے کوتمام رشتوں سےمقدم سمجھاہوگاایسےلوگوں کے متعلق اعلان ہوگا:

 ’’ آج قیامت کے دن تمہیں کسی پریشانی کاخوف نہیں رکھناچاہیے،اورنہ آج تمہیں اپنی۔(زخرف)


بلکہ رسول اللہﷺکاارشاد ہےکہ ایسے لوگوں کواللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دےگاجواللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرےسے محبت کرتےہیں چنانچہ حدیث میں ہے:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آوازدےگا ’’میرے جاہ و جلال اورعظمت وتعظیم کی خاطر ایک دوسرے سےمحبت کرنےوالے کہاں ہیں؟میں آج انہیں اپنےسایہ میں جگہ دوں گا اس دن میرےسائے کےعلاوہ اورکوئی سایہ نہیں ہوگا‘‘(مسلم)

جن لوگوں کےتعلقات کی بنیاد تقویٰ اوراخلاص پرہوگی قیامت کےدن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائےگا:

’’ تم خود اور تمہاری طرح کے دوسرےساتھی جنت میں داخل ہوجاؤ،تمہیں وہاں خوش رکھاجائےگا‘‘۔( زخرف)

Share To:

درمکنون

درمکنون ایک عورت کے لیے یہی کافی ہے

Post A Comment:

0 comments so far,add yours