نبی کریمؐ کےفرمان کے مطابق مومن سب گناہ کرسکتا ہے صرف جھوٹ نہیں بول سکتا۔
گویا جھوٹ بولنے والا مومن نہیں ہوتا۔نوےفیصد لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ کچھ اپنے مفادکے لیے، کچھ مصلحت کے تحت جائز سمجھتے ہوئے اور کئی محض دوسروں کو پریشان کرکے لطف اٹھانے کے لیے۔ جھوٹ بڑی حیثیت رکھنے والے بھی بولتے ہیں اور عام افراد بھی۔ بڑے آدمی کے جھوٹ کا اکثر اوقات اس کے بولنے کے دوران ہی پتا چل جاتا ہے ، لیکن کوئی اسے کہہ نہیں سکتا۔ جب کہ چھوٹے آدمی کے جھوٹ پر عموماً کوئی دھیان نہیں دیتا۔پہلا جھوٹ مشکل ہوتا ہے، دوسرے پر ہچکچاہٹ ہوتی ہے اور تیسرے جھوٹ پر ندامت یا پشیمانی کا احساس نہیں ہوتااور پھر انسان بڑے اعتماد سے جھوٹ بولنے لگتا ہے۔ اور اسکی پختہ عادت بن جاتی ہےجسےوہ معمولی سمجھنے لگ جاتا ہے۔جیسے گھر پر ہو تو کہہ دینا گھر پر نہیں ہوں،دفتر نا ہو کہہ دینادفتر ہوں،سوداسلف لیتے توجھوٹ عام ہے قیمت کم لگے کہہ دینا فلاں کم قیمت میں دےرہا،معاملات کرتے ہوئے خصوصا رشتہ طےکرتے جتنا جھوٹ بولا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ طلاق لیتے اور طلاق کے بعدایک دوسرے کے بارے میں بولا جاتاہے۔جھوٹ نا صرف بولا جاتا ہے بلکہ لکھا بھی جاتا ہےجیسے استاد اسکول دیر سے پہنچے تو حاضری رجسٹر پر وقت پورا لکھتے ہیں ایسے ہی واپسی میں جلدی آجائیں تو حاضری پوری ہی لگانی ہے،کوئی سرٹیفکیٹ بناتے وقت جیسے کاکردگی زیرو ہو اسے ہیرو لکھنا،پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہو یا وفات کا ،شناختی کارڈ ہو یا کوئی بھی کارڈپر تاریخ پیدائش کم یا زیادہ لکھوانا،یہ سب جھوٹ کام کا حصہ بن چکے ہیں۔کبھی اپنا جائزہ لیں دن میں کتنی بار جھوٹ بولا اور کتنی بار لکھا تو شاید ہمارا آدھا دن جھوٹ بولتے لکھتے کرتے گزرتاہوگا،خصوصا دفتری امور اور بازار کے لین دین میں ایک معمول بن چکاہے کسی سے کام نکلوانا ہوتو سہارا جھوٹ کا لیاجاتا ہے
۔ایسے ہی جھوٹ کے گواہ بننا ،جھوٹی گواہیاں دینا،کسی برے کا ساتھ دینا اسکو ٹھیک سمجھنا۔۔۔سب جھوٹ ہے ۔جھوٹاانسان اعتبار کےقابل نہیں رہتاایک بار کسی کا بھروسہ توڑے توکوئی اس پر دوبارہ یقین نہیں کرتا۔چاہے وہ ظاہری وجاہت والا ہی نظرآئے۔جس طرح بڑے سے بڑا مجرم اپنے پیچھے کوئی ایسی نشانی چھوڑ جاتا ہے جو اس تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے اسی طرح ہر جھوٹے سے بھی کوئی ایسی حرکت ضرور سرزد ہوجاتی ہے جس سے شک کا دروازہ کھل جاتا ہے۔بعض اوقات ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں،جھوٹا شخص کئی جھوٹ بولنےکے بعد اس لیے پکڑا جاتا ہے کیونکہ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ پہلے کیا کچھ کہہ چکاہےکہتے ہیں۔
حدیث کے مطابق جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے منہ سے اتنی بدبو نکلتی ہے کہ نیکیاں لکھنے والے فرشتے اس سے بہت دور ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ تیرا ناس کرے کہ تیرے منہ سے کتنی بدبو نکلی۔
اکثر افراد کے منہ کی بدبوکاسامنا کرنا پڑے توسوچتی ہوں کہین جھوٹ نا بولتا/بولتی ہو۔۔کیاایسا ہوتاہے؟
منافق کی تین نشانیاں بتائیں جن میں سب سے پہلی نشانی جھوٹ بولناہے۔
جھوٹ کبیرہ گناہ ہے جوتوبہ کےبغیر معاف نہیں ہوتا۔یہ ایسا گناہ ہے جس پر وعید ہے۔وعید بھی ایسی کہ آپؐ نےمعراج کے موقعہ پر ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے چہرے خنزیر جیسے تھے اور ان کی زبانیں پشت پر کھنچی ہوئی تھیں اور بڑے عذاب میں مبتلا تھے جبرئیل نے بتایا کہ یہ جھوٹی گواہی دینے والے ہیں۔
یعنی جھوٹ بولنے کا اس قدر بھیانک انجام ہے۔
آئیے عہد کرتے ہیں ناجھوٹ بولیں گے نا جھوٹوں کا ساتھ دیں گے چاہےکتنی کی مجبوری ہو کتناہی نقصان ہوجائے،آخرت کے نقصان سے زیادہ کوئی نقصان نہیں۔





.jpeg)

.jpeg)
