no image

 نبی کریمؐ کےفرمان کے مطابق مومن سب گناہ کرسکتا ہے صرف جھوٹ نہیں بول سکتا۔

گویا جھوٹ بولنے والا مومن نہیں ہوتا۔نوےفیصد لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ کچھ اپنے مفادکے لیے، کچھ مصلحت کے تحت جائز سمجھتے ہوئے اور کئی محض دوسروں کو پریشان کرکے لطف اٹھانے کے لیے۔ جھوٹ بڑی حیثیت رکھنے والے بھی بولتے ہیں اور عام افراد بھی۔ بڑے آدمی کے جھوٹ کا اکثر اوقات اس کے بولنے کے دوران ہی پتا چل جاتا ہے ، لیکن کوئی اسے کہہ نہیں سکتا۔ جب کہ چھوٹے آدمی کے جھوٹ پر عموماً کوئی دھیان نہیں دیتا۔پہلا جھوٹ مشکل ہوتا ہے، دوسرے پر ہچکچاہٹ ہوتی ہے اور تیسرے جھوٹ پر ندامت یا پشیمانی کا احساس نہیں ہوتااور پھر انسان بڑے اعتماد سے جھوٹ بولنے لگتا ہے۔ اور اسکی پختہ عادت بن جاتی ہےجسےوہ معمولی سمجھنے لگ جاتا ہے۔جیسے گھر پر ہو تو کہہ دینا گھر پر نہیں ہوں،دفتر نا ہو کہہ دینادفتر ہوں،سوداسلف لیتے توجھوٹ عام ہے قیمت کم لگے کہہ دینا فلاں کم قیمت میں دےرہا،معاملات کرتے ہوئے خصوصا رشتہ طےکرتے جتنا جھوٹ بولا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ طلاق لیتے اور طلاق کے بعدایک دوسرے کے بارے میں بولا جاتاہے۔جھوٹ نا صرف بولا جاتا ہے بلکہ لکھا بھی جاتا ہےجیسے استاد اسکول دیر سے پہنچے تو حاضری رجسٹر پر وقت پورا لکھتے ہیں ایسے ہی واپسی میں جلدی آجائیں تو حاضری پوری ہی لگانی ہے،کوئی سرٹیفکیٹ بناتے وقت جیسے کاکردگی زیرو ہو اسے ہیرو لکھنا،پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہو یا وفات کا ،شناختی کارڈ ہو یا کوئی بھی کارڈپر تاریخ پیدائش کم یا زیادہ لکھوانا،یہ سب جھوٹ کام کا حصہ بن چکے ہیں۔کبھی اپنا جائزہ لیں دن میں کتنی بار جھوٹ بولا اور کتنی بار لکھا تو شاید ہمارا آدھا دن جھوٹ بولتے لکھتے کرتے گزرتاہوگا،خصوصا دفتری امور اور بازار کے لین دین میں ایک معمول بن چکاہے کسی سے کام نکلوانا ہوتو سہارا جھوٹ کا لیاجاتا ہے

۔ایسے ہی جھوٹ کے گواہ بننا ،جھوٹی گواہیاں دینا،کسی برے کا ساتھ دینا اسکو ٹھیک سمجھنا۔۔۔سب جھوٹ ہے ۔جھوٹاانسان اعتبار کےقابل نہیں رہتاایک بار کسی کا بھروسہ توڑے توکوئی اس پر دوبارہ یقین نہیں کرتا۔چاہے وہ ظاہری وجاہت والا ہی نظرآئے۔جس طرح بڑے سے بڑا مجرم اپنے پیچھے کوئی ایسی نشانی چھوڑ جاتا ہے جو اس تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے اسی طرح ہر جھوٹے سے بھی کوئی ایسی حرکت ضرور سرزد ہوجاتی ہے جس سے شک کا دروازہ کھل جاتا ہے۔بعض اوقات ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں،جھوٹا شخص کئی جھوٹ بولنےکے بعد اس لیے پکڑا جاتا ہے کیونکہ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ پہلے کیا کچھ کہہ چکاہےکہتے ہیں۔

حدیث کے مطابق جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے منہ سے اتنی بدبو نکلتی ہے کہ نیکیاں لکھنے والے فرشتے اس سے بہت دور ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ تیرا ناس کرے کہ تیرے منہ سے کتنی بدبو نکلی۔

اکثر افراد کے منہ کی بدبوکاسامنا کرنا پڑے توسوچتی ہوں کہین جھوٹ نا بولتا/بولتی ہو۔۔کیاایسا ہوتاہے؟

منافق کی تین نشانیاں بتائیں جن میں سب سے پہلی نشانی جھوٹ بولناہے۔

جھوٹ کبیرہ گناہ ہے جوتوبہ کےبغیر معاف نہیں ہوتا۔یہ ایسا گناہ ہے جس پر وعید ہے۔وعید بھی ایسی کہ آپؐ نےمعراج کے موقعہ پر ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے چہرے خنزیر جیسے تھے اور ان کی زبانیں پشت پر کھنچی ہوئی تھیں اور بڑے عذاب میں مبتلا تھے جبرئیل نے بتایا کہ یہ جھوٹی گواہی دینے والے ہیں۔

یعنی جھوٹ بولنے کا اس قدر بھیانک انجام ہے۔

آئیے عہد کرتے ہیں ناجھوٹ بولیں گے نا جھوٹوں کا ساتھ دیں گے چاہےکتنی کی مجبوری ہو کتناہی نقصان ہوجائے،آخرت کے نقصان سے زیادہ کوئی نقصان نہیں۔

 👈آخر کیاوجہ سے ہم نے روزے کو اتنا سخت کیوں بنادیا ہے۔ایک دوسرے کےذہنوں میں روزے کا ڈراؤنا سا امیج ڈال دیتے ہیں خاص طور پر بچوں کےذہن میں۔۔۔

زیادہ کام ناکرنا کہ روزہ ہے

سوتے رہنا کہ روزہ ہے

زیادہ نا چلنا کہ روزہ ہے

گرمی میں نانکلنا کہ روزہ ہے

دفتروں میں اوقات کار گھٹادینا کہ روزہ ہے

اسکولوں میں جلدی چھٹی کردینا کہ روزہ ہے

کوئی زیادہ کام لےلےتو باتیں بنانا کہ روزے میں کام کرواتے ہیں

بچوں کو روزہ نا رکھوانا کہ اسکول جانا ہے 

یا اسکول سے چھٹی کروادینا کہ روزہ ہے

سفرمیں روزہ چھوڑ دینا

گھرمیں کوئی بھاری کام کرنا ہےتو روزہ چھوڑ دینا

کیا یہ سب کام ناکرنے سے روزہ سلامت رہتاہے؟کیاروزہ صرف پیٹ کا ہے کہ یہ سب کام کرنے سے روزہ محسوس ہوگا بھوک پیاس کی حاجت ہوگی توخود کو جتنا آرام دےسکتے دینا چاہیے۔۔ روزہ تو مشقت میں صبرسیکھاتاہےاگر آپکا بچہ روزہ رکھ کر پیدل سکول سے واپس آئے تو پریشان ہونےکی ضرورت نہیں بلکہ اسکو سیکھائیں کہ یہی توروزےمیں امتحان ہےکہ مشکل یا سخت کام آجائےتوصبر سے کیسے کرنا ہے۔یہاں ہمارا مزاج ہی الٹاہوجاتاہے روزہ ہے روزہ لگےگاکہہ کہہ کر بچوں کےذہن میں روزے کا ایک ڈراؤنا امیج بٹھاکر مقصد سے فراموش کردیاجاتا ہے۔مگر اصل روح یہی تو ہے روزے میں سخت کام کرنا پڑےتوکرو تاکہ برداشت پیداہو ناکہ چھوڑ دیاجایے کہ روزہ ہے۔۔بچوں کوسیکھائیں کہ ان کاموں سے روزے پربالکل اثر نہیں پڑتا ہاں روزہ تب متاثرہوگاجب آپ لڑوگے جھگڑوگےجھوٹ بولو گےغصہ کروگےنمازنہیں پڑھوگے،سوتےرہوگے،گھرکےکام نہیں کروگے۔ہروقت موبائل پرلایعنی لغویات میں پڑےرہوگے۔۔۔آنکھ ،کان،زبان،دل،دماغ ان کا بھی تو روزہ ہوتاہےجن امور سے بچنا چاہیے ان سے تو نہیں رک رہےآخر ان کاموں پر ہی کیوں یاد آجاتاہےکہ روزہ ہے۔۔۔اصل روزہ پیٹ کاروزہ نہیں۔آپکووہ حدیث یاد نہیں جس میں نبیؐ نےفرمایا ہے

جس نے جھوٹ اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ اعمال سے اجتناب نہ کیا ، اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ شخص کھانا پینا ترک کر دے

توثابت کیاہوا اصل روزہ تمام برےکاموں سے بچنا ہے۔ناکہ صرف بھوک پیاس سے بچنا ہےیہ تیس دن باقی گیارہ ماہ گزارنے کی مشق ہے۔۔کوشش کریں جو کام اس ماہ شروع کریں عید کےبعد سے اگلے رمضان تک جاری رہے۔


 

نیک صالح اولاد اللہ تعالی کی طرف سے ایک نعمت ہے

اولاد میں بھی بیٹی بیش بہا عطیہ خدا وندی ہےحدیث کےمطابق بچی کی پرورش کرنے پر جنت کی بشارت دی گئی ہے اتنی بڑی خوشخبری لڑکوں کے لئے نہیں بلکہ صرف لڑکیوں کی عمدہ تعلیم وتربیت کے لئے آئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ بچے بچیوں کی تعمیر و ترقی کا سرچشمہ ماں کی گود ہی ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، یہیں سے ان کی تعلیم وتربیت کا آغاز ہوتا ہے

موجودہ دور میں بچیوں کی تعلیم وتربیت میں بڑی غفلت برتی جارہی ہے،ہم خصوصا پاکستانی مائیں اپنی بچیوں کی عمر کے بنیادی اور ابتدائی کچھ سال ( پانچ ،چھ سال کی عمر) یوں ہی ضائع کردیتی ہیں حالانکہ یہی عمر بچیوں کی خاص تربیت کی ہوتی ہےجہاں انکو عمدہ زبان سیکھاتی ہیں وہیں لباس بھی عمدہ پہنانےکی کوشش کرتی ہیں اور عمدہ لباس میں غیر اقوام کی نقالی ہوتی ہے

نت نئے فیشن اور ڈیزائن کے ملبوسات بچیوں کو پہنائے جاتے ہیں  ٹی شرٹس،جینز،ٹائٹس اور لیگی وغیرہ بعض ایسے کپڑے بھی ہوتے ہیں جس میں آدھی ٹانگیں،کہنیاں ،گلہ،کندھے تک عریاں ہوتےہیں، بعض اتنا باریک و تنگ ہوتے ہیں کہ جس کی وجہ سے جسم کی بناوٹ نمایاں ہوتی ہیں،اگرفراک بھی پہنایا توبغیر آستین کے اور بغیر پاجامے کے صرف نکر کےساتھ یا ٹائٹس کےساتھ،اور شادی بیاہ پر بھی اب تو مکمل بڑوں جیسالباس بغیر آستین اور دوپٹے کے  ننھی بچیوں کو پہنایا جارہا یے سات آٹھ سال تک کی بچیوں کو دوپٹے کی عادت نہیں ڈالی گئی ،میں نے اکثر دیکھا کہ سال دو سال کی بچیاں مکمل لڑکوں والے لباس اور بالوں کی کٹنگ کےساتھ ہوتی ہیں پہچانی نہیں جاتی کہ لڑکی ہے

اکثریت مائیں خود بھی ایسے ہی لباس پہنتی ہیں اور اولاد کو بھی ایسے ہی پہناتی ہیں بعض والدین سے جب کہا جاتا ہے کہ ایسے کپڑے نہ پہنائیں تو خود والدین کہتے ہیں کہ ابھی تو یہ بچیاں ہیں،جب بڑی ہوں گی تو نہیں پہنیں گی، جب کہ ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے، معلوم ہونا چاہیے کہ ہر لباس اپنا اثر رکھتا ہے:حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں لباس کا معاملہ اتنا سادہ اور اتنا آسان نہیں ہے کہ آدمی جو چاہے لباس پہنتا رہے اس لباس کی وجہ سے اس کے دین پر اس کے اخلاق پر اس کی زندگی پر اس کے طرز عمل پر کوئی اثر واقع نہ ہو۔

آٹھ دس سال تک بچیوں کو ساتر کپڑوں کی عادت نہ ڈالی گئی توبلوغت کےبعد انکو یہی کپڑے قیدخانہ لگیں گے،اس لئے چھوٹی چھوٹی بچیوں کو بھی ایسے ہی کپڑے پہنائیں جو شرعی ہوں آجکل مارکیٹ میں بآسانی ساترکپڑے بنے بنائےموجود ہیں ان لباس کی عادت ڈالی جائے تاکہ آگے چل کر ان کو ذہن و دماغ میں شرعی لباسوں کی اہمیت اور اس کی قدروقیمت باقی رہے، پھر انہی کی گود میں اہل اللہ اور بڑے بڑے اسلام کے جیالے تیار ہوں گے۔یہی کونپلیں کل امت کی مائیں ہوں گی، آج اگر ان کی صحیح تربیت ہوگی تو کل ان کی گود میں پلنے والے اسلام کے ہیرو ہوں گے۔


 دو دن ڈھیر ساری یادوں کےساتھ رخصت ہوئے،جب پتہ چلا ورکشاپ کاانعقاد ہونےجارہا ہے تو یہ کام پہاڑ جیسالگ رہاتھا سب ٹیم کی محنت و کوشش اور ہماری نہایت اچھی مہربان نگران میڈیاسیل وسطی پنجاب ماریہ ڈار کے بہت ہی برداشت اور تعاون کی بدولت ہی ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری سرانجام دےپائےایک وقت میں تینوں کمیٹیوں آئی ٹی،حریم ادب،نشرواشاعت کےکاموں کودیکھنا اور ان تمام ممبران کاچھوٹی چھوٹی بات ایک ایک کام پیاری باجی سے پوچھ کر کرنا جواب میں ہمیشہ ہی طرح شائستگی ہی پائی گئی جس سے کام کرنےکااورحوصلہ ملتاگیا،داخلی راستوں،ہال،طعام گاہ،رہائش گاہ کوسجانےسنوارنےاور دیگرامورکی انجام دہی کےبعد ورکشاپ کےدن کاانتظاربڑھتاگیا اسی پریشانی میں نیند بھی آنکھوں سے غائب ہوگئی کہ کل سب کام احسن طریقے سے ہوجائیں کسی پریشانی کاسامنا ناکرناپڑے،یہ اجتماعیت کی برکات ہی ہوتی ہیں کہ صبح ہال میں داخل ہوتے ہی سب کام آسان لگنے لگے،وسطی پنجاب کے15اورشمالی پنجاب کے 12اضلاع کی آمد کاسلسلہ شروع ہوا توساتھ کراچی سےآئےخاص مہمانوں(مرکزی ٹیم) سے ہال کی رونق دوبالاہوگئی۔

ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید،ڈائریکٹر میڈیا سیل عالیہ منصور،سیکریٹری اطلاعات فریحہ اشرف، نگران شعبہ آئی ٹی سعدیہ حمنہ،صدر حریم ادب پاکستان عالیہ شمیم کےجانداراوردلچسپ پروگرامات سے شرکاء کےعلم میں اضافہ ہوا۔مرکزی آئی ٹی ٹیم ممبر خالدہ شہزاد کی canva پروکشاپ نے حاضرین محظوظ ہوئے۔ورکشاپ میں بہت سارے رنگ زندگی میں بھرنےکےلیےملےمیڈیاصرف انجوائمنٹ ہی نہیں  یہ حق و باطل کاایک وسیع میدان ہے جس میں حق والوں نےحق کا پرچار کرناہے اور باطل کےدلدادوں نےباطل کافروغ کرناہے یہ اب آپکی چوائس ہےآپ کونسا راستہ چنتے ہیں۔

ورکشاپ کا اختتام اللہ کی مدد سےاحسن طریقےسےسرانجام پایا۔مرکزی میڈیاسیل نگرانات سےپہلی طویل خوشگوار ملاقات تھی مرکزی نگران کا نام سنتے ہی آپ کےذہن میں ایک خاکہ بن جاتاہوگاکہ بارعب شخصیت اپنےآپ میں رہنےوالی،جن سےکوئی سوال کرتے بھی ڈرتاہو نہیں ہرگزنہیں ۔۔نہایت ملنسار بےتکلف انداز،عام کارکن کواہمیت دینے والی نہایت عاجزانہ رویہ ،، عالیہ منصور باجی اورسعدیہ حمنہ باجی کامیری طرف خود چل کرآنا گرمجوشی سےملناجہاں مجھے شرمندہ بھی کرگیاکہ اتنی بڑی شخصیات خودملنےچلی آئیں وہیں ایک لیڈراورایک عام کارکن کےگیپ کوختم ہوتےدیکھ کرجماعت اسلامی پربےحدپیار آیا کہ یہی توواحدجماعت ہے جس میں ایک لیڈر اور ایک کارکن کےدرمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا بےلوث تعلق ہوتاہےنادلوں میں گلے رہتے ناکوئی ایک دوسرےسےشکوےکرتا ہےیہی وہ رشتے ہیں

جو قیامت کےدن بھی برقراررہیں گے جن کی بنیادتقویٰ پرہوگی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اوراللہ کے دین کےلیے ایک دوسرے سے دوستی کی ہوگی

جنہوں نے دین کےرشتے کوتمام رشتوں سےمقدم سمجھاہوگاایسےلوگوں کے متعلق اعلان ہوگا:

 ’’ آج قیامت کے دن تمہیں کسی پریشانی کاخوف نہیں رکھناچاہیے،اورنہ آج تمہیں اپنی۔(زخرف)


بلکہ رسول اللہﷺکاارشاد ہےکہ ایسے لوگوں کواللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دےگاجواللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرےسے محبت کرتےہیں چنانچہ حدیث میں ہے:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آوازدےگا ’’میرے جاہ و جلال اورعظمت وتعظیم کی خاطر ایک دوسرے سےمحبت کرنےوالے کہاں ہیں؟میں آج انہیں اپنےسایہ میں جگہ دوں گا اس دن میرےسائے کےعلاوہ اورکوئی سایہ نہیں ہوگا‘‘(مسلم)

جن لوگوں کےتعلقات کی بنیاد تقویٰ اوراخلاص پرہوگی قیامت کےدن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائےگا:

’’ تم خود اور تمہاری طرح کے دوسرےساتھی جنت میں داخل ہوجاؤ،تمہیں وہاں خوش رکھاجائےگا‘‘۔( زخرف)


 جب آپ کو لگےکہ آپ دین/دنیا کا کام بہت اچھا کررہے ہیں،آپکے کام اورصلاحیتوں کی ہرکوئی تعریف کررہاہے،آپکو اپنا آپ اچھالگنےلگ جائے آپ محسوس کریں کہ آپ جیسا کام یا سوچ یا منصوبہ یا مشورہ کوئی نہیں کرسکتا،جب آپ کے اندر خود کو پسند کرنے کی چیونٹی چپکے سے داخل ہوجائے،جب آپ اپنی تصاویر کو،ایک ایک ادا سے لی گئی سیلفیوں کو بہت پسند کرنےلگ جائیں،جب آپکو اپنی عقل پرناز ہونےلگے،جب فخر کرنے لگیں کہ سمجھداری آپکاشیوہ ہےتو ٹھہریے رک جائیں ایک پل کوسوچیں کہیں تکبرمیں مبتلا تونہیں ہوگئے۔۔۔ آپ جانتے ہیں نا رائی کے دانے برابر بھی تکبر جہنم میں ڈال دےگا۔۔ آپ چاہتے ہیں کہ سب آپکی تعریف بھی کریں اور یہ سوچ آپ کودل ہی دل میں خوش بھی ناکرے تو یہ دعا روزانہ تین بار پڑھ لیاکریں

کنزالعمال

باب: ریا کار پر جنت حرام ہے

حدیث نمبر: 7503


ترجمہ:

٧٥٠٣۔۔۔ تم لوگوں میں شرک (کی باطنی بیماری) چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے اور تمہیں ایک ایسی بات بتاؤں گا جب تم اسے کرلو گے تو چھوٹا بڑا (ہر قسم کا) شرک تم سے دور ہوجائے گا، تم ان کلمات کو تین بار کہہ لیا کرو: 

 اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِکَ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَيْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُُ بِهِ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ

 

 اے اللہ! میں اس بات سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ دانستہ طور پر شریک ٹھہراؤں اور نا واقفیت کی بنا جو کچھ ہو اس کی معافی چاہتا ہوں۔ (ابو یعلی عن ابی بکر)


نہ میاں بیوی،نہ منگیتر،نہ کزن،نہ ہی دوست۔۔۔ یہ باپ اور بیٹی ہیں جنہوں نے ایک شادی پر واہیات گانوں پرواہیات ڈانس کیا۔۔ کل کوبہن بھائی ،ماں بیٹا بھی آجائیں گے،ممکن ہے بھابھی اپنے شوہرکی بجائے دیور یاجیٹھ کےساتھ بیہودہ رقص کررہی ہو کیااب اولاد کودینے کےلیے بس یہی کچھ رہ گیا۔

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی عطیہ اور تحفہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر نہیں دیا۔ (جامع ترمذی)

آج کے باپ اپنی اولاد کو کیادےرہے ہیں میوزک سےلگاؤ ڈانس کی تربیت،فحاشی میں مدد ۔۔ ناشرم رہی نا حیاء، میں قربان جاؤں اپنے رسول ؐ پر کیافرماتے ہیں جب حیاء نا رہے پھرجومرضی کرو۔۔ توآج کے ماں باپ کررہے جوانکواچھالگتا۔۔وہ نہیں کرتے جو سنت ہے وہی کریں گے جو سوسائٹی چاہ رہی۔شرم کے مارے پورا کلپ نادیکھاگیا پھرکمنٹس پڑھے کہ کوئی کہہ رہاہویہ باپ اور بیٹی نہیں۔۔جب ہرجگہ سےتصدیق ہوگئی کہ یہ باپ اور بیٹی ہی ہیں تودل دکھی سےدکھی ہوگیا کہ آج کل کے باپوں کو بیٹی کی ناعزت کی پرواہ نا نام کی۔۔ افسوس! بیٹی کو حیاءداری بلوغت سے پہلے سیکھانی چاہیے جب باپ ہی بےحیاء ہو عقل پرپردہ پڑاہو بچی بچی کہہ کر وقت کوگزار دے یہی بچی جب جوان ہو تووحشی درندوں کا نشانہ بن جائے۔۔

 پاکستان کامستقبل بہت بھیانک نظرآرہاہے ہمارے ملک میں میوزک،ڈانس بہت عام ہوگیاہے،آپ سٹوریزکھولیں یاریلز ہرجگہ میوزک میوزک ناچ ناچ۔۔ نبی پاکؐ کےفرمان کےمطابق جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) علانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔‘کیاآج ہم عجیب عجیب بیماریوں میں مبتلا نہیں؟ آج آپ اسپتالوں کا چکر لگائیے کچھ وقت گزاریے دیکھیے کس کس طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

اولاد سےبڑھ کر توکچھ بھی نہیں۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ قرآن کہتا ہے یہ اولاد توآزمائش ہے واقعی آزمائش ہے اولاد کچھ ایسا کہتی جوشریعت سےہٹ کرہو وہیں والدین کا دل پگھل جاتا کہ بچہ ضدکررہا جب کہ اس وقت کونہیں اس سےپیداہونے والے مستقبل کےمسائل کودیکھنا چاہیےکہ آج یہ خواہش پوری کردی کل کو اسکی زندگی پرکیااثرپڑےگا۔ آپ جو بیچ بوئیں گے وہی فصل نکلے گی چنے کا بیچ ڈالنے سے سونا نہیں اگل سکتا۔بچپن میں بچےکوجوسیکھائیں گے تاعمر وہ اسکےساتھ رہےگا۔

 

 







میرے ایک واٹس ایپ گروپ "ماں اور بچہ" کے توسط سے ایک ماں نے مجھے میسج کیا کہ "میرا بچہ سات سال کا ہے ویسے تو بہت سلجھا ہوا اور کہنا ماننے والا ہے شرارتی نہیں پر سکول میں یا گھر میں کوئی بچہ آجائے اسکےساتھ مل کر شرارتیں کرتا ہے اور کہنا نہیں مانتا۔میں بہت پریشان ہوں کوئی حل بتائیں میں نے تو چالیس روزوں کی منت بھی مان لی ہے"

پہلے تومیں سوچتی رہی کہ شاید اس نے پچیس لکھنا تھا غلطی سے سات سال لکھ دیا ہو پھر سوچا ایساکونسا سنگین جرم اس سات سال کے بچے نےکردیا جس پر چالیس روزوں کی منت مانگ لی ۔۔حد ہے بھئی۔۔ ہم مائیں شاید چاہتی ہیں بچہ پیداہوتے ہی پچیس تیس کا ہوجائے کہ اسکی شرارتیں نہ دیکھنی پڑیں۔۔ یا ایسا عقل والا ہوجائے کہ بچہ کہلانےکےلائق نہ رہے۔ آخر چھوٹی عمر کے بچوں سے ہم بڑی بڑی توقعات کیوں کرتے ہیں۔


 احساس ذمہ داری

کوئی بھی کام موڈ سے نہیں ہوتا فکر اور ذمہ داری سے ہوتا ہےاگرآپ کےاندر احساس ذمہ داری ہے تو آپکاضمیرجاگاہواہےآپ بہترین انسان ہیں۔اگر ذمہ داری کا علم تو ہو، لیکن اس کا احساس نہ ہو یا یہ بھی ہو ،لیکن پھربھی ڈھیٹ بن کر انجان بنے رہناایک نہایت غیرذمہ دارنہ فعل ہےاگرآپکوباربارکسی کام کےلیےذمہ داری کا احساس بھی دلایا جائے آپ وہ کام بےدلی  سےکربھی لیں پھربھی آپ ذمہ داروں کی لسٹ میں شامل نہیں ہوسکتے۔کیونکہ کسی بھی ذمہ دار کو کہہ کرکام نہیں کروایا جاتا۔اسکو خود پتہ ہوتاہے کہ مجھے یہ کام کرنا چاہیے۔اپنےاپنےحصے کا کام کیجیے وہ بھی احسن طریقے سے نا کہ ہربار احساس دلایاجائے اور ڈنکےکی چوٹ پر ہی کام کروایا جائے۔ہرشخص اپنے اپنے کام کا ذمہ دار ہے آپ گھرکےبڑے ہیں تو نیچے سب کے متعلق آپ سے پوچھاجائےگا۔آپ کی ذمہ داریوں اورکاموں کے متعلق کہ کس کس کام کو خوشدلی سےکیااور کس کس کام کو بےدلی سے۔ہمارے ہاں عمومی رواج پاگیا ہے ایک شخص ہی ذمہ دار بنتا ہے چایے بڑاہویا چھوٹا۔ باقی سب بیٹھے رہناپسند کرتے ہیں بعض اوقات جوکام بڑے کےکرنے والے ہوں وہ چھوٹا احسن طریقے سے کررہاہوتا ہے اورجو کام چھوٹوں کے ہوں اسے بڑا اداکررہا ہوتا ہے۔یہ نہایت غلط طرز زندگی ہے ۔کم از کم بڑے کو اپنے کاموں سےآگاہی ہونی چاہیے کہ وہ کسی پربوجھ نابنے۔ مل کر کام کرنےمیں ویسے بھی برکت ہوتی ہے ویلے بیٹھ کر کھانے سے خالی موٹاپا ہی آئےگا😏۔ اس لیے مل جل کرکام کریں اور اپنے اپنے حصے کا کام کریں۔ایک دوسرے پربوجھ نا بنیں ۔کہ ہرشخص اندر ہی اندر آپ سے اکتایا ہو۔ شب بخیر🛌😴